پیمائش کا مسئلہ اور اکیسویں صدی کا نیا کلوگرام

سات بنیادی اکائیوں کی نئی تعریفات بلاشبہ اس صدی کا اہم ترین سائنسی واقعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ پیش رفت ابھی دو روز قبل ہوئی جب کلوگرام کی نئی تعریف پر دنیا بھر کے اہم ترین سائنس دانوں کا اجماع ہوا۔ ہمارے سماج کے لحاظ سے اس واقعے کی حیثیت دو چند ہے کیوں… آگے پڑھیے پیمائش کا مسئلہ اور اکیسویں صدی کا نیا کلوگرام

سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی… آگے پڑھیے سائنس کی شعریات

تبدیلی کی حرکیات

فرض کیجیے آپ کے پاس دو ایک جیسے برتنوں میں مختلف درجۂ حرارت پر گرم کی گئی پانی کی ایک جتنی مقدار موجود ہے۔ پہلے برتن میں موجود پانی کا درجۂ حرارت نوے جب کہ دوسرے برتن میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ آپ دونوں برتنوں کو ایک ساتھ سرد خانے میں رکھ دیتے ہیں۔… آگے پڑھیے تبدیلی کی حرکیات

اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

حاشر ارشاد صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب میں اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے پس منظر میں پاکستانی سوشل میڈیا کی عمومی وحشت ناک حالت کو خوب خوب آشکار کیا ہے۔ انہوں نے اس حالتِ زار کے تین نیم جینیاتی محرکات یعنی احساسِ کمتری، تعصب اورحماقت، اور ایک ذہنی معذوری یعنی علمِ طبیعات کی مبادیات سے مکمل لاعلمی… آگے پڑھیے اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

رازِ حیات اور جدید تحقیقات

میسا چوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فزکس کے چونتیس سالہ  اسسٹنٹ پروفیسر جیرمی انگلینڈ لفظوں کی کائنات کے اسیر ہیں اور ان کی تہہ میں  غواصی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ’شعور‘، ’علم‘، ’انفارمیشن‘ وغیرہ جیسے الفاظ کے استعمال سے ذرا پرہیز ہی کرتے ہیں  کیوں کہ ان کی رائے میں یہ الفاظ … آگے پڑھیے رازِ حیات اور جدید تحقیقات

سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان فرق پر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا چشم کشا مضمون نظر سے گزرا۔ میں سائنسی تحقیق کے تناظر میں مزاجاً محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے کُلی طور پر متفق ہوں، لہٰذا مجھےان کا مضمون مشاہداتی اور عملی اعتبارات سے بہت متوازن معلوم ہوا۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور، ایک نظری تناظر… آگے پڑھیے سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

محترم برشوری صاحب نے مدارس کے نظامِ تعلیم پر جاری بحث پر ایک ’’اپالوجی‘‘ پیش کی ہے جس سے فریقین یقیناً فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناقص رائے پر ہرگز اصرار نہیں لیکن پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا ہے کہ برشوری صاحب نے یہاں ایسی کئی بحثوں کو ایک ساتھ چھیڑ دیا ہے… آگے پڑھیے کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے… آگے پڑھیے مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

ارسطو کے دفاع میں

یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ… آگے پڑھیے ارسطو کے دفاع میں

رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

اس لب کشائی کی اول و آخر علت پروفیسر ہود بھائی کا وہ دلچسپ انگریزی کالم ہے جو پچھلے سال ڈان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ حال ہی میں ’ہم سب‘ کے صفحات پر شائع ہوا۔ خواہ ہود بھائی صاحب ہوں، اسلام آباد کے کوئی روحانی کارڈیالوجسٹ ہوں، ہومیو پیتھک اور پانی سے… آگے پڑھیے رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

سائنسی تدریس اور سماج: مسئلے کے خدوخال

اس  مفروضے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں  کہ کسی بھی زیرِ نظر سماجی مسئلے کے خدوخال  اور اس  کے تفہیمی مباحث  مخصوص سماجی   تناظر میں ہی  بامعنی ٹھہرتے ہیں۔  آپ کسی بھی سماجی مسئلے پر بحث کا آغاز کیجئے تو   لازم  آئے  گا کہ ایک مخصوص سماجی تناظر  میں رہتے ہوئے ہی کلام کا آغاز… آگے پڑھیے سائنسی تدریس اور سماج: مسئلے کے خدوخال

(انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو

برادرم ذیشان ہاشم کا اہم مضمون ’سب میرے ایک لیکچر کی مار ہے‘ نظر سے گزرا۔ سماج میں رد عمل کی نفسیات کے بارے میں ان کا تجزیہ نہایت متوازن معلوم ہوا۔ خاص طور پر ان کا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ یہ خود پسندی اور حتمی سچائی جاننے پر بے جا اصرار کا… آگے پڑھیے (انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو