چوہدری محمدعلی ردولوی کے خطوط

جن کو یہ مرض لگا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کتابیں خرید خرید کر گھر میں بھرنے کی بیماری انہیں پڑھ ڈالنے سے مشروط نہیں، خرید کر اپنا لینے کی ہوس پوری کرنے کے لئے صرف پڑھنے کی نیت ہی بہت کافی ہے۔ ہمارے گھر میں بھی یہ عام دیکھا گیا ہے کہ پچھلی صدی میں خریدی گئی کچھ کتابیں بھی آج تک پڑھنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس مرض کی ماہیت اور دیگر رزائل و فضائل پر پھر کبھی مزید روشنی ڈالیں گے ، فی الحال تو اس مرض سے جڑی فقط ایک خباثت کا ذکر کرنا مقصود تھا یعنی اپنے اندر لائیبریری جانے کی حاجت کا تقریباً مر جانا۔ لیکن پھر بھی کتب خانے کی سیر کا کچھ ایسا چسکا ہے کہ مع اہل و عیال مہینے میں کم از کم ایک حاضری تو واجب ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں میں دورانِ سیر اپنی تحلیل نفسی کے دوران ہم پر یہ راز افشا ہوا کہ ہم ہر اس کتاب کو عاریتاً پڑھنے سے ہچکچاتے ہیں جسے مرنے سے پیشتر خرید لینے کاذرا سا بھی امکان ہو۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک بشمول اردوئے معلیٰ ، عود ہندی، ٹائن بی کی تاریخ، ٹی ایس ایلیٹ کے خطوط اور گبن کی ڈیکلائن اینڈ فال آف رومن ایمپائر کی جلدوں کے، ہم لاتعداد دوسری مشہور ترین کلاسیک کتابوں کولائیبریری کی الماریوں میں سے بارہا نکال کر ورق گردانی کرتے ہوئے نہ صرف اس احتیاط سے رال ٹپکاتے ہیں کہ کتاب لائیبریری ہی میں محفوظ رہے بلکہ تجدید نیت کرتے ہیں کہ اللہ نے چاہا تو کسی نہ کسی دن خرید کر ہی پڑھیں گے۔

اس تمہید کاموضوع سے براہِ راست صرف اتنا تعلق تھا کہ قارئین میں سے کوئی احباب ہمیں مذکورہ بالا کتابیں تحفے میں دینا چاہیں تو ہم قیمت کی پروا نہ کرتے ہوئے فوراً تحفہ قبول کر لیں گے۔

دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ اس ہفتے ہم شاید زندگی میں پہلی اور آخری بار اپنے مرض پر قابو پانے میں کامیاب ہو ہی گئے یعنی رہ نہ سکے اور چودھری محمد علی ردولوی کے خطوط جن کی تلاش میں ہم برسوں سے ہیں اور کافی تلاش و بسیار کے بعدبھی ناکام ہیں، بالآخر لائیبریری سے مانگ کر پڑھنے پر مجبور ہو گئے۔ یہاں ہم اس کھلے ’کنفیشن باکس‘ میں یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دل تو ہمارا چوری پر بھی مائل تھا لیکن کچھ اپنے بیوی بچوں کے ڈر سے اور کچھ اپنی ڈھلتی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے اس ارادے سے باز رہے۔ ہمارے پاس موجود کتابوں میں ابن انشا کی ’چاند نگر‘ اور اسٹیفن کنگ کے کچھ ناول بچپن کی چوریوں کی یاداشت کے طور پر پہلے ہی ہمارا منہ چڑانے کے لئے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔

خط کیا ہیں ایک رنگا رنگ نیرنگِ خیال، ایک جہان ِ طلسم ہے، بلکہ یوں کہئے کہ مسلسل اپنی گرہیں کھولتی خوبصورت اور سادہ انسانی زندگی ہے، قاری کے لئے ایک ایسا سفر جس سے دل سیر نہیں ہوتا۔راقم ردولوی صاحب کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا۔ خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بٹوارے کے بعد ردولی ہی میں رہ گئے، خاندان اس سے کافی پہلے ہی تتر بتر ہو چکا تھا اور رہی سہی کسر بٹوارے نے پوری کر دی۔ زیادہ تر خطوط ان کی بیٹی ہما بیگم کے نام ہیں لیکن کئی خطوط ایسے بھی ہیں جو اپنے دوسرے بچوں اور دیگر احباب کو لکھے گئے۔ مضامین کی جہتوں کا تخمینہ خطوط کو پڑھے بغیر ناممکن ہے، کہیں اللہ میاں سے راز و نیاز اور دوستانہ چھیڑخانی ہے تو کہیں اپنے بیٹے سلمان سے خط نہ لکھنے کا گلہ، کہیں شیعوں سے گلہ کہ وہ انہیں اہل سنت کے قریب سمجھتے ہیں، جو ان سے حسن ظن بھی رکھتے ہیں ان کا الزام ہے کہ وہ تقیہ پر مائل ہیں، تو کہیں سنیوں سے گلہ کہ وہ پوری طرح سنی ہی کیوں نہیں ہو جاتے، ایک تیسرا طبقہ ہے جو انہیں لامذہب گردانتا ہے لیکن اس سے وہ ان خطوط کی حد تک کم ہی خائف نظر آتے ہیں۔ کتابوں کا تو ذکر ہی کیا، کسی جگہ اپنی بیٹی کو خلیل جبران کے ہیرو المصطفےٰ سے متعارف کروا رہے ہیں تو کہیں اپنی صحت کے مسخ ہونے کو آسکر وائلڈ کے ڈورین گرے کی شبیہ مسخ ہونے سے جا ملاتے ہیں، کہیں علامہ اسد اور یوسف علی کے ترجمہ قرآن کا ذکر ہے تو کہیں غلام جیلانی برق کی کتابوں کا، اردو کے شعر تو ہر خط میں مل جائیں گے لیکن کہیں نہ کہیں انگریزی نظمیں بھی یادداشت سے سناتے نظر آتے ہیں۔کچھ خطوط تو ایسے ہیں جو اردو کلاسیک کی اہم ترین چیزوں میں شمار کئے جانے کے قابل ہیں اور بحیثیت مجموعی اس برقی خط و خطابت کے دور میں بھی ان کافن خط نویسی ادبی نوادرات کے طور پر نصاب میں پڑھائے جانے کے قابل ہے۔لیجئے کسی باقاعدہ انتخاب کی زحمت کے بغیر کچھ مختصر اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

ضیا محی الدین کی آواز میں محمد علی ردولوی کا ایک خط

چند آخری خطوط سے معلوم ہوتا ہے ان کی بیٹی نے ان کی موت سے ایک آدھ سال پہلے ’گویا دبستاں کھل گیا‘ چھپوانے کی خواہش ظاہر کی تو ردولوی صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ وہ خوش تھے لیکن یہ ڈر بھی تھا کہ ہنستے ہنساتے، روتے رلاتے ان سے خاندان کے کسی فرد یا دوست کی دل آزاری نہ ہو۔اس سلسلے کے ایک دلچسپ خط میں ذکر کرتے ہیں کہ اچھا ہے انہوں نے ابوالکلام آزاد کی طرح چھپوانے کی نیت سے خطوط نہیں لکھے ورنہ لفاظی و صناعی کا عنصر غالب آ جاتا۔ خطوط ہی سے ان کی کچھ دوسری کتابوں کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں جنہیں معلوم نہیں کبھی بعد میں اشاعت نصیب ہوئی یا نہیں۔

تنقید و تبصرہ سر آنکھوں پر

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے