
سات بنیادی اکائیوں کی نئی تعریفات بلاشبہ اس صدی کا اہم ترین سائنسی واقعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ پیش رفت ابھی دو روز قبل ہوئی جب کلوگرام کی نئی تعریف پر دنیا بھر کے اہم ترین سائنس دانوں کا اجماع ہوا۔ ہمارے سماج کے لحاظ سے اس واقعے کی حیثیت دو چند ہے کیوں کہ ہم اسے ہائی اسکول کے درجے پر سائنس کی رسمی تدریس اور اعلیٰ تعلیم کے درجے پر تاریخِ سائنس اور فلسفۂ سائنس کی غیررسمی ترویج کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں عمومی طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کے مراحل میں سائنس کی عملی جہت کو تدریس کا مرکز بناتے ہوئے ان دونوں جہتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے باعث پس منظر کا فقدان واقع ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل ایک مضمون میں تفصیلی ذکر کیا جا چکا ہے، ہم اس پس منظر کو سائنس کی شعریات کا نام دے سکتے ہیں، جس کی ایک جہت تاریخ اور دوسری فلسفہ ہے۔ تاریخِ سائنس سے نابلد ہونے کے باعث اساتذہ اور طالبِ علم سائنسی روایت سے بالکل علیحدہ ایک خالی خولی میکانیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
فلسفۂ سائنس سے لاعلمی سائنسی دریافت کی منطق سے بے خبری کا باعث بنتی ہے۔ روایت اور منطقی ڈھانچوں سے یکسر لاعلمی ایک طرف تو اس قسم کے دعووں کو منظرِ عام پر لاتی ہے جہاں جدید تربیت یافتہ ڈاکٹر کینسر جیسی بیماری کے شکار مریض کو مرض اور علاج سے رسمی آ گاہی کی بجائے اورادو وظائف اور دم درود وغیرہ جیسے علاج تجویز کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف سماج میں سائنس کے مظاہر تو نظر آتے ہیں لیکن خود اعتمادسائنسی علمیات کی بنیاد پر ایجادِ علم اور دریافت کا عمل پنپنے نہیں پاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں انجینیر اور ڈاکٹر تو بہت ہیں لیکن سائنس دان، ریاضیات اورسائنسی علمیات کے محقق نہ ہونے کے برابر ہیں۔
ہم سب روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی طور پیمائش سے دوچار ہیں، لہٰذا مقیاسی معیارات قدیم ادوار ہی سے اہم ثقافتی مظاہر مانے جاتے رہے ہیں۔ مقیاسی نظام کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تمام معیارات کی بنیادوں میں موجود ایک تقریباً مقدس مقیاسی معیار سیاسی قوت کا مظاہرہ بھی ہے۔ عصرِ حاضر کی بنیادی اکائیوں کی تاریخ قرونِ وسطیٰ کی مغربی یوروپی ثقافت بالخصوص آٹھویں اور نویں صدی کی کارولنژیان نشاۃ الثانیہ تک جاتی ہے۔
بادشاہت کے حوالے سے یہ شاہ شارلمین اور اس کے سپوت لوئی پارسا کے ادوار ہیں۔ سو فی صد وثوق سے دعوے کے لیے تو کچھ تحقیق لازم ہے لیکن فرانسیسی زبان میں pied du Roi کی اصطلاح لمبائی کے جس معیار کے لیے ایک ہزار سال یعنی لوئی پارسا سے لے کر انقلابِ فرانس تک استعمال ہوتی رہی ہے اس کے معنی ”پائے شہنشاہ“ ہی کے ہیں۔ چونکہ قدیم ادوار میں انسانی جسم ہی کو پیمائش کا اولین معیار مانا جاتا تھا لہٰذا وہیں سے لمبائی کی اکائی حاصل کی گئی۔
آج کی تحقیق کے مطابق بھی سفید فام انسانی پاؤں انسانی جسم کی کل لمبائی کا تقریباً پندرہ فی صد ہوتا ہے، لہٰذا یہ قدیم فٹ آج کے معیار کے مطابق تقریبا دس سے گیارہ انچ لمبا تھا۔ معیار کی کم و بیش یہی روایت مصری، بابلی اور ہندوستانی تہذیبوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے جہاں فٹ کی جگہ ذراع کی اکائی کو معیار مانا گیا۔ لمبائی، وزن اور حجم کی بنیادی اکائیوں کے اس قدیم یوروپی نظام کو کچھ تبدیلیوں کے بعد انقلابِ فرانس کے دس سال بعد 1799ء میں فرانسیسی قانون کا حصہ بنایا گیا۔ باقی بنیادی اکائیاں آنے والی ڈیڑھ صدی میں کئی تبدیلیوں کے بعد مقیاسی نظام کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ 1875ء میں دنیا کی سترہ اقوام نے پیرس میں اس عہدنامے پر دستخط کیے جیسے ”میٹر کنوینشن“ کہا جاتا ہے۔ 1960ء میں بالآخر بنیادی اور ان سے اخذ کردہ اکائیوں کا ایک بین الاقوامی نظام وجود میں آیا۔
اٹھارہویں صدی کے قانونی دستاویزات میں مقیاسی اکائیوں کی مذکورہ تعریفات پر نظر ڈالنے سے دلچسپ فلسفیانہ مفروضے اور عملی مسائل سامنے آتے ہیں۔ فرانسیسی قومی اسمبلی کے ذریعے 1799ء میں توثیق پانے والے قانون میں لکھا گیا ہے کہ یہ نظام ”آنے والے تمام وقتوں اور تمام انسانوں“ کے لیے ہے کیوں کہ ان اکائیوں کی بنیادی طبعی( یا قدرتی) ہے۔ مثال کے طور پر ایک کلوگرام ایک لٹر پانی کی کمیت، ایک میٹر قطبِ شمالی سے خطِ استوا کے فاصلے کا ایک کروڑواں حصہ اور ایک سیکنڈ مکمل دن کو چوبیس گھنٹوں، ہر گھنٹے کو ساٹھ منٹوں اور ہر منٹ کو ساٹھ سیکنڈ ماننے کے بعد ایک دن کا چھیاسی ہزار چارسوواں حصہ ہے۔
لیکن استعمال کی خاطر ان کی نقل کیسے کی جائے، مثنیٰ کیوں کر تیار ہوں، باٹ، گھڑیاں، ترازو اور پیمانے کس معیار کے تحت بنائے جائیں؟ ظاہر ہے کہ ان تعریفات کو کسی ٹھوس شے سے جوڑنا لازم تھا جس کے لیے مختلف حل نکالنے کی کوششیں جاری رہیں۔ کچھ حل تو جلدی ممکن ہوئے مثلاًپلاٹینم کا معیاری کلوگرام 1889ء ہی میں تخلیق ہو چکا تھا لیکن سیکنڈ کے معیار کا مسئلہ 1967ء تک حل نہ ہو سکا جب آخر کار اسے سیسیم 133 ایٹم کے دو ہائپر فائن درجوں میں اشعائی توانائی کی دوری حرکت کے 9192631770 چکروں کا دورانیہ مان لیا گیا۔
لیکن ساتوں بنیادی اکائیوں کو ٹھوس معیارات سے منسلک کر دینے والے یہ جزوقتی حل اس آدرش پر پورے نہیں اترتے جو کسی بھی معیار کی تعریف کا ایک خالص تجریدیت کا آدرش ہے۔ تجریدیت کا یہ آدرش ہی دراصل کسی بھی مقیاسی اکائی کے نظام کو ہمیشگی اور عمومیت کی ان صفات سے سرفراز کرتا ہے جو ”آنے والے تمام وقتوں اور تمام انسانوں“ کے لیے بامعنی ہو۔ عملی مسائل اس کے علاوہ ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے ڈیزائن میں بالکل متعین اور درست پیمائش نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور مختلف سمجھوتوں کا باعث بنتے ہیں۔
کونیاتی سطح پر یہ مسائل حددرجہ بڑھ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نظری طبیعیات یا فلکیات کے ماہر ہیں اور کسی سیارے یا ستارے کا وزن معلوم کرنا چاہتے ہیں تو کلوگرام کے معیار میں ذرا سا فرق بھی پیمائشوں کو کہیں سے کہیں لے جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کسی ستارے کے وزن کی بابت کوئی دعوی کرنا مشکل ہے کیوں کہ وہ کششِ ثقل پر منحصر ہے۔ آخرآپ کو کمیت پر ہی انحصار کرنا ہو گا جو اس ستارے میں موجود کل مادے کی پیمائش ہے۔ آج کمیت ِ شمسی علمِ فلکیات میں ایک معروف اکائی ہے جس کو دوسرے ستاروں کی کمیت کا معیار مانا جاتا ہے۔ چمچ بھر شمسی مادہ تقریبا دس ملین ٹن ہوتا ہے۔
طبعی قانون کی تعریف کے باعث بات دوسری طرف نکل جانے کا خدشہ ہے لیکن پیمائش کے مسئلے کی حد تک یہ نکتہ اٹھائے بغیر چارہ نہیں کہ فکرِ انسانی طبعی قانون کی تعریف پر ایک ایسے مفروضے پر بالاجماع متفق ہو چکی ہے جس کو کم از کم عملی سائنس کی حد تک ایک بار پھر ردّ وقبول کے طویل سلسلے سے گزارنا ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جیسے نہ صرف سائنسی روایت نے سینچا ہے بلکہ دریافت و ایجاد کی کل عمارت کا ڈھانچہ اسی پر کھڑا ہے۔
سادہ طبعی قوانین کی عمومی خاکہ بندی اور ان قوانین کی مدد سے پیچیدہ سے پیچیدہ تر قوانین کی جانب بڑھنے والا یہ مفروضہ تمام طبعی قوانین کو غیرمتغیر مانتا ہے۔ یہ قوانین تجرباتی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ دونوں صورتوں میں ان کے مقاصد معلوم واقعاتی مظاہر کی وضاحت اور نامعلوم واقعات کی پیشین گوئی ہے۔ کسی بھی سماج میں سائنس سے مستفید ہوتے افراد یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ مظہری واقعات کی سائنسی وضاحت دراصل ان کی تہہ میں موجود طبعی قوانین ہی کی وضاحت ہوتی ہے۔
تمام طبعی قوانین انسانی علم میں نہیں لیکن اس مفروضے کا اطلاق نامعلوم قوانین پر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ یعنی ہم کسی ایسے طبعی قانون کی دریافت نہیں کر سکتے جو تحدیدات و شرائط کے کسی مجموعے کو اپنے اوپر لاگو کرنے کے بعد بھی تغیر کا احتمال رکھتا ہو۔ ایسا ہونے کی صورت میں قانون سائنسی روایت سے فوری طور پر تلف تونہیں ہو جاتا لیکن اس کی خاکہ بندی کا عمل مکمل تصور نہیں کیا جاتا اور اسی لیے اس کی افادیت پر ایک سوالیہ نشان رہتا ہے۔
منطقی اعتبار سے یہ دعویٰ کسی مزید استدلال کا محتاج نہیں کہ غیر متغیر طبعی قوانین اپنی خاکہ بندیوں میں اساسی نوعیت کے کچھ ایسے غیرمتغیر طبعی مظاہر رکھتے ہوں گے جو انسانیت کو با الآخر معلوم ہو جائیں گے۔ مقیاسی تناظر میں پہلا ایسا دعویٰ ساٹھ کی دہائی میں کیا گیا جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ ایک سیسیم ایٹم سے خارج اور جذب ہونے والی خردموج (مائیکرویو) شعاؤں کی غیرمتغیر فریکوئنسی وقت کی تمام پیمائشوں میں استعمال ہو گی۔
زمین کے گھومنے کی بجائے اس غیرمتغیر اساسی مظہر کی بنیاد پر ایٹمی گھڑیاں بنائی جائیں گی۔ دوسرا دعوی اسّی کے اوائل میں ہوا جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ کسی جوفِ خالی (ویکیوم) میں نوری رفتار ایک ایسا اساسی غیرمتغیرہ ہے جسے لمبائی کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوں ایک میٹر کو ماپنے کے لیے پلاٹینم اریڈیم کے معیاری پیمانے کی بجائے نوری پیمانے کا معیار رائج ہو گیا۔ لیکن کمیت کی حد تک ایسا کوئی اساسی غیرمتغیرہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے برعکس طبعی قوانین کی ریاضیاتی خاکہ بندیوں میں شامل اساسی غیر متغیرات کو مقیاسی نظام کی اکائیوں کے ذریعے قیاس کیا جاتا رہا۔ اس موقع پر یہ سوال دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ آخر یہ غیر متغیرات ہیں کیا؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یہ وہ مقداریں ہیں جو متغیرات کی باہمی نسبتوں کو ممکن بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر کائنات کی تمام معیاری گولائیوں کا محیط ایک سادہ سے طبعی قانون سے ماپا جا سکتا ہے جس کی رُو سے کسی بھی دائرے کا محیط اس کے قطر اور ایک اساسی غیرمتغیر مقدار ”پائی“ کا مرکب ہے۔
لیکن یہ غیرمتغیرہ خود کیسے ماپا جائے؟ ا س کا تعین کس حد تک ممکن ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ گولائی کے تمام مظاہر میں شامل ہے لہٰذا ایک مخصوص طبعی صورت رکھتا ہے لیکن تعین سے اس کی پیمائش پھر بھی تاحال ناممکن ہے۔ لیکن بہرحال ایک ایسا متعین قیاس ممکن ہے جو تین ہزار سال سے سائنسی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔ بنیادی مقیاسی اکائیوں کے تناظر میں بھی غیرمتغیرات کو مقیاسی نظام کی رائج تعریفات کی بنیاد پر ماپا جاتا رہا۔
اس سلسلے میں حالیہ مثال میکس پلانک کا غیرمتغیرہ ہے جو کسی بھی نوری ذرے کی توانائی اوراس کی فریکوئنسی میں نسبتی تعلق کی خاکہ بندی کرتا ہے۔ اس اساسی غیرمتغیرے کو تجربہ گاہ میں ماپنے کے لیے آج تک تو کلوگرام کا وہ معیاری میزان استعمال کیا جاتا رہا جو فرانس میں موجود ہے کیوں کہ آئن سٹائن کی کمیت اور توانائی کے تعلق پر مبنی مساوات کا پلینک کی کوانٹم مساوات سے ریاضیاتی تعلق ثابت ہو چکا تھا۔ لیکن بہرحال یہاں یہ سمجھوتہ کارفرما رہا کہ بالتعریف ایک ایسے غیرمتغیرے کے پیمائش کو مقیاسی غلطی سے سراسر پاک قرار نہیں دیا جا سکتا جب اس کی پیمائش میں کسی ایسی شے کا عمل دخل ہو جو فطرتاً طبعی نہ ہو بلکہ انسانی ایجاد کی مصنوعیت کے باعث ہلکی پھلکی کمزوری یا خرابی کا امکان رکھتی ہو۔
اس تناظر میں 1999ء میں یہ تجویز سامنے آئی کہ اگر ایک معلوم کمیت کے لیے پلانک کے غیرمتغیرے کو ”کبل بیلنس“ نامی ایک برقی میزان سے ماپ لیا جائے تو پھر اس متعین مقدار کو خود کلوگرام کی معیاری تعریف کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ با الفاظ دیگر معیاری کلوگرام پر مبنی ایک میزانی نظام سے پلانک کا غیرمتغیرہ قیاس کرنے کی بجائے معکوس راستہ اپنایا جائے۔ یوں دنیا بھر میں برقی اوزان پر مشتمل کئی کبل بیلنس مشینوں نے پلانک کے غیرمتغیرے کی وہ حتمی پیمائش کی جو اب کلوگرام کی پیمائش میں استعمال ہو گی۔ یوں اگلے سال مئی تک کلوگرام، مول، کیلون، ایمپئیر اور کینڈیلا کی وہ نئی معیاری تعریفات سامنے آئیں گی جو تمام متعین اور حتمی غیرمتغیروں پر مشتمل ہوں گی۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ نئے مقیاسی معیارات ”آنے والے تمام وقتوں اور تمام انسانوں“ کے لیے کافی ہوں گے یا نہیں لیکن جدید سائنسی روایت اب مستقبل کے بارے میں اس قسم کے کسی حتمی دعوے سے گریز پر ہی ایمان لا چکی ہے۔ یہ یقیناً انسانی فکر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے لیکن مقیاسی معیارات کے مسئلے پر ہرگز حرفِ آخر نہیں۔ مقیاسی علمیات میں تعین اور درستگی ہی واحد مسائل نہیں بلکہ یہ تو مقداری خاکہ بندی کا ایک ایسا جدید آدرش ہے جس کی طرف انسانیت کا سفر مسلسل جاری ہے۔
آج سائنسی روایت ہر اس تصور کو اپنی چھتری تلے جمع کر چکی ہے جو زمرہ بندی، تقابل و موازنہ اور مقداری خاکہ بندی کے تحت لایا جا سکتا ہو۔ یہ تینوں دائرے یوں تو علیحدہ ہیں لیکن ان کے درمیان ایک سلسلہ وار نسبتی تعلق بھی موجود ہے۔ سائنسی روایت پہلے پڑاؤ پر زمرہ بندی، دوسرے پر موازنہ اور تیسرے پر مقداری خاکہ بندی کی کوشش کرتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ علمِ حیوانات و نباتات اور لسانیات جیسے علوم کس طرح پچھلی نصف صدی میں پہلے دو دائروں سے گزر کر اب حسابی حیاتیات اور حسابی لسانیات جیسے علوم کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ سفر پرشکوہ اور سحر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ کل انسانی حیات پر یوں حاوی ہوتا چلا جا رہا ہے کہ مقداری تناظر اب لازماً جدید انسانی نفسیات کا ایک نامیاتی جزو بن چکا ہے۔
اس مقداری تناظر کے خدوخال کیا ہیں؟ کیا یہ خاکہ بندی محض سماجی لسانیات سے متعلق ہے؟ کیا یہ مقداری تناظر قدیم کیفی یا نوعیتی تجزیے کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گا یا دونوں ایک دوسرے کو سہارا دینے کے لیے لازمی ہیں؟ کشمکش کے میدان کیا ہیں؟ سرحدیں کہاں واقع ہیں اور کتنی مبہم ہیں؟ توازن اور سمجھوتے کے امکانات کیا ہیں؟ ہم ان سوالات کو پھر کبھی اٹھانے کی کوشش کریں گے۔