
بورخیس کا مطالعہ ریاضیاتی معنوں میں ایک عجیب و غریب حلقہ دار سرگرمی ہے۔ اگر آپ ڈچ گرافک فن کار مورس اشر کے کام سے واقف ہیں تو ضرور جانتے ہوں گے کہ ناممکن اشیاء کے کیا معنی ہیں۔ ایسی ہی ایک ناممکن شے ”اشری سیڑھیاں“ ہیں جن پر چڑھنے یا اترنے والا مسلسل چڑھتا یا اترتا ہی رہتا ہے۔ یہ سوال کہ آیا وہ چڑھ رہا ہے یا اتر رہا ہے، سیڑھیاں دیکھنے والی آنکھ پر منحصر ہے۔ سو بورخیس کا مطالعہ اشری سیڑھیوں پر پھسلتے چلے جانے کے مترادف ہے۔ اگر آپ کی روح بورخیس کی تخیلاتی روح سے کسی بھی درجے میں ہم آہنگ ہے تو اس کا سحر بہرصورت آپ کو اپنی گرفت میں لے کر ہی چھوڑے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ جادو کیسے اپنا اثر کرتا ہے۔
آپ کسی بھی عام قاری کی طرح بورخیس کو پڑھنا شروع کرتے ہیں تو پہلا تجربہ ایک خالص حیرانی کا ہوتا ہے۔ شاید اردو لغت میں بھونچکے رہ جانا اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن بھونچکے رہ جانے کی یہ کیفیت ایسی نہیں ہوتی جیسی سری یا جادوئی حقیقت پسند ادب پڑھتے وقت ہوتی ہے۔ یہ ایک تحیرِ محض کی حالت ہے یعنی ایک ایسی حیرانی جو آپ کے مکمل گردوپیش یا کُل حقیقتِ حال ہی کو کچھ دیر کے لیے ایک اور تخیلاتی ڈھانچے کے سپرد کر دے۔ زیف سید نے اپنے تراجم کے دیباچے میں لکھا ہے کہ بورخیس کو پہلے پہل پڑھنا ایسے ہے جیسے قرونِ وسطیٰ کے کسی مہم جو نے کوئی نیا برّاعظم دریافت کر لیا ہو۔ یقیناً یہ ایک ایسا طلسماتی احساس ہے جو بورخیس کے تمام اولین قارئین کے ہاں مشترکہ ہے۔ وہ آغاز ہی سے آپ کو ایک ایسے تخیلاتی گورکھ دھندے میں پھنساتا ہے کہ آپ کہانی کی دنیا سے باہر آتے ہیں تو اپنی حیرانیوں کی پرتیں اتارنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ سوچیے اگر آپ نے کوئی براعظم دریافت کر لیا ہو تو؟ کیا آپ فوراً دنیا کو چیخ چیخ کر بتانا نہیں چاہیں گے کہ آپ نے وہاں کیا دیکھا؟
لیکن آپ کو فوراً ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اپنی اس دریافت کو لفظوں میں بیان کرنا کتنا ناممکن ہے۔ آپ کو شاید یہ اندازہ کرنے میں دیر نہ لگے کہ بورخیس کیا نہیں ہے، یا یوں کہیے کہ کس جیسا نہیں ہے۔ وہ گبرئیل گارسیا مارکز یا یا خولیو کورتاسار جیسا تو بالکل بھی نہیں، نہ ہی فلپ ڈک، نیل گیمن یا پال آسٹر، اور نہ ہی اتالو کالوینو، امبرٹو ایکو یا ریونوسوکے اکوتاگاوا۔ لیکن آپ کبھی اس سوال سے پیچھا نہیں چھڑا سکیں گے کہ بورخیس کس قسم کا کہانی کار ہے۔ آپ کے اندر کا نقاد جو کہانی کی ان گنت دنیاؤں پر مخصوص روایتوں کے لیبل چسپاں کردینے کا عادی ہے، آپ کو یہ سوال پوچھنے پر اکسائے گا کہ آیا بورخیس پر جدید، مابعد الجدید، سرّی مابعد الطبیعیاتی، جادوئی حقیقت پسند، کلاسیکی یا اسی قسم کی کسی دوسری روایت میں رکھا جا سکتا ہے۔ مان لیجیے کہ یہ سوال بے معنی ثابت ہو گا اور آپ ناکام ٹھہریں گے۔
تو پھر یہ انوکھا سوال کیوں نہ اٹھا دیا جائے کہ آیا بورخیس ایک لکھاری بھی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے لکھاری کے معنی ایک ایسے شخص کے ہیں جو رسمی طور پر لکھے گئے لفظ کے ذریعے قاری کے ذہن میں اپنی مراد کا ابلاغ چاہتا ہے؟ اگر آپ اس سوال کے مضمرات سے آگاہ ہیں تو اسی لمحے آپ کو ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔ کیا آپ اس نئے براعظم کی بھول بھلیوں میں کھونا چاہیں گے یا یہیں سے واپس لوٹنا؟ مسئلہ یہ ہے کہ پہلے ہی قدم پر آپ کی چھٹی حس آپ کو خبردار کرے گی کہ یہ شاید ایک عمر بھر کی سیاحی ہے۔ لیکن اگر آپ ایک مسلسل قاری ہیں تو ان نئی اور اجنبی زمینوں کی سیاحت سے ذرا نہیں ٹھٹکیں گے، آخر کو آپ کا واسطہ ان گن لکھاریوں سے پڑ چکا ہے اور آپ یقیناً یہیں سوچیں گے کہ جہاں اتنے طلسماتی جہاں دیکھے تو چلو ایک اور سہی۔ لہٰذا آپ یہی فیصلہ کریں گے اور گمان یہی ہے کہ بورخیس کے نسبتاً مختصر اور تیزی سے برسنے والے نثر پاروں کے باعث آپ اسے ایک دم اپنے اندر اتارنے کی بجائے قطرہ قطرہ جذب کریں گے، بالکل ایسے ہی جیسے آپ کسی نئے دریافت شدہ علاقے میں پرندوں کا مطالعہ کر رہے ہوں یا پھر آپ کا مشغلہ کوئی نئی کھوہ ڈھونڈ کر اس میں اترتے چلے جانا ہو۔
کچھ وقت گزرنے پر آپ کو احساس ہو گا کہ آپ دراصل ایک بھول بھلیاں میں پھنس چکے ہیں۔ اپنے قدموں پر نظر ڈالیے۔ وہ کون سا لمحہ تھا جب آپ چلنے کی بجائے دوڑنے لگ گئے؟ آپ ہانپ تو نہیں رہے؟ کیا آپ رک کر سانس لینے کے قابل ہیں؟ ایسا ممکن نہیں کیوں کہ یہ آپ کی دیکھی بھالی فطری دنیا نہیں۔ آپ دراصل ایک جہانِ خواب میں ہیں۔ یہ بورخیس کی دنیا ہے۔ آپ اس میں اپنی مرضی سے آئے تھے لیکن یہ آپ کا آخری شعوری فیصلہ تھا۔ رخشِ خیال کی ایّال اب آپ کی گرفت میں نہیں۔
یہ پراسرار احساس آپ کو صرف اس صورت میں ہو گا اگر آپ واقعتاً بورخیس کے جہانِ حیرت میں اتر چکے ہیں : یہ تمام وقت آپ دراصل ایک ’لکھاری‘ کو نہیں بلکہ ایک ’قاری‘ کو پڑھ رہے تھے۔ تو کیا ایک ’قاری‘ کو پڑھ چُکنا ممکن ہے؟
واقعہ یہ ہے کہ ایک لکھاری کے برعکس کسی قاری کو مصنف کے ذہن میں موجود علامتی ہیئتوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ استدلال کے ڈھانچے کبھی کبھار تو بالکل الٹا دیے جاتے ہیں یا کسی نہ کسی سطح پر لازماً ان کی کایا کلپ ہوتی ہے۔ کیا یہ کہنا معقول ہے کہ پاپولر ادبی تناظر میں ان کی شکل مسخ ہو جاتی ہے؟ اگر آپ واقعی ایک بورخیسی قاری ہیں، واقعتاً بورخیسی کائنات کے سیاح ہیں تو یہ تمام سوال بے معنی ہیں۔
اور یہی وہ بنیادی سوال ہے جو آپ کو خود سے پوچھنا ہے : کیا آپ ایک بورخیسی قاری ہیں؟ بات ’واقعی‘ یا ’اصلاً‘ بورخیسی قاری ہونے کی ہے ہی نہیں۔ یہاں ’نیم‘ ، ’بظاہر‘ یا ’نامکمل‘ جیسے وصفی سابقے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یا تو آپ ہیں اور یا نہیں ہیں۔
تو آئیے واپس اس بنیادی سوال کی جانب لوٹتے ہیں کہ بورخیس خود کیا ہے؟ قاری سے متصف اس کائنات میں خود اس کا مقام کیا ہے؟ آخر اس کے اپنے طے شدہ معیارات کے مطابق فکشن حقیقتِ حال کی حتمی تصویر کشی ہے، تو کیا یہ وہ حقیقتِ حال نہیں جو خود اس کے تخیل کا افسانوی ماحصل ہے؟ اگر آپ واقعی کسی بورخیسی بھول بھلیاں میں دوڑتے رہے ہیں تو سانس بحال کرتے کسی لمحے آپ اس امکان پر حیران ضرور ہوں گے کہ کیا بورخیس واقعتاً آپ کے تخیل سے باہر وجود بھی رکھتا ہے؟
وہ ایک ایسا جادوگر ہے جو اپنی نابینائی سے بینائی کشید کرتا ہے اور لافانیت کو ایسا معقول واقعہ بنا دیتا ہے جیسے یہ اگلا لمحہ۔ اس کے افسانوی چیستانوں میں گھنٹوں بھاگنے کے بعد آپ ضرور اس کے غیر افسانوی نقشوں کی مدد سے قطب نمائی پر مائل ہوں گے۔ فکشن پڑھیں گے تو لازماً اس طلسم کے خالق کو جاننا چاہیں گے جو آپ کو اتنا لطیف اور انوکھا تجربہ عطا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے آپ اپنی سرگرداں دیوانگی کی تہوں میں کارفرما کسی منظم ضابطے کی تلاش میں ہوں گے۔ نان فکشن پڑھیے تو اسے مزید جاننا چاہیں گے کیوں کہ ایسے کسی ضابطے کے متعلق شک میں مبتلا ہو جائیں گے۔ آخر کو ضابطے کا سوال ایک تنظیم، ایک ٹھوس تفصیل، ایک خاکہ بندی کا تقاضا کرتا ہے جو محال ہے۔ آپ اس انوکھے ادبی نظریے پر حیران ہوں گے جو ان گنت مابعد الطبیعیاتی پہیلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور انہیں طبیعیاتی طور پر ملموس و محسوس لفظوں کے ایک ربط میں پرو دیتا ہے۔ کیا اس نظریے کا کوئی نام ہے؟
اس کے مضامین بھی کہانیوں کی طرح داخلی مکالمے ہیں۔ کبھی کبھار قاری خود سے پوچھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا یہ محض خودکلامی ہے! لیکن پھر احساس ہوتا ہے کہ یہاں بھی ایک حتی قاری ہے جو بورخیس کے خاموش مطالعوں کے درمیانی وقفوں میں بات کرنے پر مائل ہوتا ہے۔ ایک ایسا قاری جو متن کے انوکھے جہانوں میں تحریر کے ذریعے راستہ تلاش کر رہا ہے۔
اس سیاحت کے دوران بورخیس آپ کو بہت کچھ سکھائے گا اور کئی گمنام جگہوں کی طرف راہنمائی کرے گا۔ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں اسے تقریباً یقین ہے کہ آپ گم ہو جائیں گے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اس کا حتمی مقصد یہی ہے کہ آپ ذہن و شعور کے ان اندھیروں میں بے خطر کود پڑیں جہاں دستیاب واحد مشعلیں اسطور کی ہیں۔ اکثر و بیشتر وہ ایک ایسا لطیف اشارہ کرتا ہے جس سے یہاں اور وہاں کی دنیائیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتی ہیں لیکن یہ آمیختہ اس طور ہے کہ آپ کسی صورت اس سے اتفاق یا اختلاف پر آمادہ نہ ہو سکیں۔ کچھ ایسے نادر مواقع بھی ہیں جہاں آپ اختلاف یا اتفاق کر سکتے ہیں، لیکن وفورِ جذبی سے نکلنے کے بعد لازماً آپ بورخیس کے پاس واپس لوٹیں گے اور اس کی ہمہ تن گوش سماعت میں یہی دھیمی سرگوشی کریں گے کہ آپ آخر کار جان گئے ہیں، آپ جان گئے ہیں کہ پراسرار دنیاؤں کی سیاحت میں اتفاق یا اختلاف کوئی معنی نہیں رکھتے۔ فقط حیرانی ہی سب کچھ ہے۔
اس کے فلسفے پر کوئی حتمی بات کہنا اسے انہی علامتی خانوں میں قید کر دینا ہے جو ’لکھاریوں‘ کے لیے مخصوص ہیں۔ لیکن بالفرض یہ لازم ہو تو ممکنہ خاکہ بندی یہی ہے کہ وہ ایک مابعد الطبیعیاتی چالباز ہے۔ اس کی مابعد الطبیعیاتی چالیں اتنی رنگارنگ، اتنی متنوع اور اتنی پیچیدہ ہیں کہ انہیں پورے طور پر سمجھنا محال ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ عقل کے تابع نہیں۔ وہ زمانی تیقن کو یوں ردّ کر دیتا ہے جیسے کوئی کھیل کھیل رہا ہو، حرکت اور مکان کی کلاسیکی دبدھاؤں کو نت نئے طریقے سے آشکار کرتا ہے، جیومیٹریائی اور حسابی پہیلیاں تخلیق کرتا ہے، اور معروضی حقیقت پر تشکیک کے لیے تازہ ڈھانچے مہیا کرتا ہے۔ ہم اسے ایک ایسا کھلنڈرا چالباز کہہ سکتے ہیں جو ہماری داخلی اور خارجی دنیاؤں کے ساتھ عملی مذاق کرتا ہے، ان کے متعلق ہمارے زمانی و مکانی اور جوہریتی تصورات کو گڑبڑا دیتا ہے اور تقدیر اور حیات و مرگ کے تصورات پر مستقل سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ متعین علمی معنوں میں نہ سہی لیکن وہ ایک ایسا عظیم مثالیت پسند معلوم ہوتا ہے جس نے شاید فلسفے کی کُل تاریخ میں اسمائیت پسند کے ساتھ سب سے بڑا عملی مذاق کرنے کی خاطر ایک مکمل جہان تخلیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس جہان میں ہمارے مستند تصورات کی تمام ننھی دنیاؤں کے بیچ کھینچی گئی جانی مانی سرحدیں بالآخر مکدر ہو جاتی ہیں۔ وہ خواب کو حقیقت میں، حیات کو مرگ میں اور عالمِ رنگ و بو کو عالمِ انفس و خیال میں مدغم کر دیتا ہے، اور اس پروسث میں فکشن اور نان فکشن ایک ہی تخلیقی اکائی میں ڈھل جاتے ہیں۔
بورخیسی جہانِ حیرت میں سرگرداں بالآخر آپ کو خیال آئے گا کہ اختتام شاید قریب ہے۔ اگر آپ اپنی آوارہ گرد طبیعت سے وفادار ہیں تو چند سالوں میں اس کے فکشن، مضامین، اور شاعری سے بالاستعیاب گزر ہی جائیں گے۔ اس تمام عرصے میں ان بھول بھلیوں کی ان گنت کنجیاں آپ کے ہاتھ آئیں گی۔ اس کے مخصوص منطقی ریاضیاتی قیاسات، رنگارنگ اور کئی بار قدیم و متروک مآخذ، اجنبی اساطیر، ایسے الفاظ و اصطلاحات جو ویکیپیڈیا اور گوگل سرچ میں سامنے نہیں آئیں گے، شوقین محققین کی مرتب کردہ بورخیسی لغات اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔ آپ اس کے فلموں پر کیے تبصرے، پیش لفظ، مختصر عباراتی شذرے، انٹرویو، مذاکرے، لیکچر، یہاں تک انگریزی ادب پر اس کے مرتب کردہ کورس سے بھی گزریں گے۔ اگر مترجم ہیں تو اپنی زبان میں اس کے ترجمے کی بلند خوانی پر ضرور آمادہ ہوں گے۔
لیکن اس سب کا انجام آخر کیا ہے؟ کیا اس چیستاں سے نکل کر واپس پلٹنے کی کوئی صورت باقی ہے؟ یعنی یہ حتمی دعویٰ کہ آپ نے بورخیس کو پڑھ لیا ہے؟ جیسے مثال کے طور پر آپ یہ دعویٰ کرتے ہوں گے کہ آپ نے کافکا، دوستویفسکی، طالسطائی یا کتنے ہی عظیم لکھاریوں کو پڑھ رکھا ہے!
نہیں، یہ ممکن نہیں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طرزِ تکلم صرف اور صرف لکھاریوں کے لیے مخصوص ہے۔ آپ متنی مہم جوئی کی کل کائنات میں واحد ”لکھاری قاری“ کو پڑھنے کے تجربے کی تکمیل کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ آپ اس بھول بھلیاں سے کیسے نکل سکتے ہیں جو اتنا عرصہ بھاگتے بھاگتے اب آپ کا جزِ لاینفک ہے؟ یاد رکھیے کہ ایک کائنات قاری کی ہے اور ایک لکھاری کی۔ اور پھر ان دونوں کی پیوندکاری سے بنی ایک تیسری کائنات ہے جہاں قاری اور لکھاری کے بیچ واقع سرحدیں پہلے تو دھندلاتی اور پھر مٹ جاتی ہیں۔ جان لیجیے کہ اس تمام عرصے میں آپ خود اس ناگزیر تخلیقی پیوند کاری کا حصہ تھے۔ آپ اب بورخیسی قاری ہیں (اور شاید یہ جنس بہت زیادہ نہیں ) ، آپ پڑھیں گے، دوبارہ اور سہ بارہ پڑھیں گے اور یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اگر آپ اس بورخیسی کائنات میں امر ہو جانا چاہتے ہیں تو یہی آپ کا حتمی یوگا ہے۔
اور اب کچھ گزارشات ترجمے کے بارے میں۔ ادبی ترجمہ بنیادی طور پر ایک اجنبی فن پارے کو اپنانے کا عمل ہے۔ یہ دوسرے تخلیقی فنون کی بہ نسبت یہ ایک منفرد فن ہے، کیوں کہ ترجمانی کی تہہ میں جاری و ساری تخلیقی وفور کی نوعیت پر ہمیشہ ایک ناگزیر سوالیہ نشان رہتا ہے۔ اس سوال کو وضع کرنے کے متعدد طریقے ہیں۔ مثلاً تخلیقی تناظر میں تو یہ اس لیے انوکھا فن ہے کیوں کہ یہ ایک ایسے تہہ دار بیانیے کو ازسرنو لکھنے کا عمل ہے جو پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ یعنی یہ ایک تخلیقی تکرار ہے اور لسانی پیرہن کی تبدیلی کے باوجود بھی تکرار ہی رہتی ہے۔ دراصل یہ طے شدہ امر ہے کہ یہ تخلیق اصلاً ایک اور بطنِ تصور سے پھوٹی ہے۔ مترجم اس امر کو تسلیم کرتے ہوئے ایک طرف تو اس تخلیقی نقالی پر آمادہ ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں خود کو بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے غیاب کو اس طرح حضوری میں بدلنا چاہتا ہے کہ قاری اصل متن کے ساتھ ساتھ ترجمے کی تہہ سے جھانکتے تخلیقی وفور کو بھی بدستور اپنی نظر میں رکھے۔ لیکن اگر متن کی یہ دوئی قاری کی نظر میں اجاگر ہو جائے تو سمجھیے متن بدنما اور ترجمہ ناکام ٹھہرا۔ یہ ایک عجیب دبدھا ہے اور کسی بھی ترجمے پر یہ تبصرہ کہ یہ تو ’ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا‘ اپنے اندر ایک المیہ کیفیت رکھتا ہے۔ مترجم صرف تبھی نظر آتا ہے جب وہ لڑکھڑاتا ہے۔
ایک اور انوکھی جہت قدرے تکنیکی ہے۔ بات یہ ہے کہ ازسرنو لکھنے کے اس عمل میں مترجم اپنی نہیں بلکہ اصل لکھاری کی مراد ایک ایسے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے جو بوجوہ اصل لکھاری کے متن تک رسائی کے وسائل نہیں رکھتا یا عمداً ہدف زبان میں متن کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اس تجربے کے خالص پن پر کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہتا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس سرحد کا تعین نہیں کر سکتا جو اصل اور ترجمہ شد متن کے بیچ موجود ہوتی ہے۔ اس سرحد کی دریافت ایک تنقیدی مسئلہ ہے جو ترجمے کے ضمن میں شاذونادر ہی ہوتی ہے۔ اور مستند ترین تنقید اسی وقت ممکن ہے جب ایک ہی متن کے ایک سے زائد تراجم سامنے رکھے جائیں۔
اس ضمن میں بورخیس کا ادب بہت زرخیز ہے کہ دنیا کی کئی زبانوں کی طرح اردو میں بھی اس کے متعدد تراجم کیے جا چکے ہیں۔ اردو میں بورخیس کے تراجم کا آغاز سن 1981 میں ’آج‘ کی پہلی کتاب کے ساتھ ہوا۔ اس میں شامل ایک حکایت کا ترجمہ صلاح الدین محمود، جب کہ ایک کہانی کا ترجمہ اسد محمد خان نے کیا ہے۔ باقی تمام کہانیوں کے تراجم اجمل کمال نے کیے ہیں۔ اس کے تقریباً دس سال بعد بورخیس کا ایک اور مختصر انتخاب سامنے آیا جس میں ایک کہانی ممتاز شیریں اور باقی اجمل کمال کی ترجمہ کردہ ہیں۔ پندرہ کہانیوں کا ایک انتخاب و ترجمہ زیف سید نے کیا ہے۔ یہی کہانیاں بعد میں ایک اور انتخاب میں شامل ہیں جس میں چند مضامین اور شاعری کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بورخیس کا ایک انتخاب و ترجمہ محمد عاصم بٹ نے بھی کیا ہے۔ راقم نے تقریباً دس سال قبل باقاعدہ ترجمے کا آغاز کیا تو افسانوی ادب میں بورخیس کی کہانی ”بابل کا کتب خانہ“ پہلی تجرباتی کاوش تھی جو مجلّہ نقاط میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد چند اور تراجم بھی کیے جو انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہیں۔ ان تمام سالوں میں ان تراجم پر جم کر تفصیلی نظر ثانی تو ممکن نہ ہو سکی لیکن اس کے باوجود کہیں نہ کہیں ایک آدھ جملہ، کوئی طویل عبارت یا کسی چھوٹی حکایت کو سنوارنے نکھارنے اور ازسرنو ترجمہ کرنے کا عمل جاری رہا۔
اس مجموعے میں کئی ایسی کہانیاں شامل ہیں جن کا ترجمہ کبھی انٹرنیٹ یا کسی مجلے میں شائع نہیں ہوا۔ پہلے سے شائع شدہ کہانیوں پر تفصیلی نظر ثانی کی گئی ہے اور کئی غلطیاں، زبان کے مسائل اور اسلوبی کیفیات کو سدھارا گیا ہے۔ ان پچیس کہانیوں میں متعدد اہم کہانیاں شامل نہیں کی جا سکیں جن پر کام تاحال جاری ہے۔
پس تحریر: یہ بورخیس کی پچیس کہانیوں کے تراجم میں شامل دیباچے کا کچھ تبدیل شدہ حصہ ہے۔ یہ تراجم حال ہی میں بک کارنر جہلم نے شائع کیے ہیں اور اس لنک سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔