رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

اس لب کشائی کی اول و آخر علت پروفیسر ہود بھائی کا وہ دلچسپ انگریزی کالم ہے جو پچھلے سال ڈان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ حال ہی میں ’ہم سب‘ کے صفحات پر شائع ہوا۔ خواہ ہود بھائی صاحب ہوں، اسلام آباد کے کوئی روحانی کارڈیالوجسٹ ہوں، ہومیو پیتھک اور پانی سے… آگے پڑھیے رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

اردو کو تدریسی زبان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

سال 6 ستمبر 2015 کی ایک خبر نظر سے گزری جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سرکاری و نجی جامعات کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ اُسی ماہ کی پندرہ تاریخ یعنی 15 ستمبر 2015 تک اردو کو بطور دفتری زبان رائج کیا جائے۔ اس سے قطع نظر کہ اس حکم پر کس… آگے پڑھیے اردو کو تدریسی زبان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

پاکستانی جامعات پر تنقید: چند گزارشات

یاسر پیرزادہ صاحب کے کالم ‘یونیورسٹیوں کا المیہ‘ سے جس بحث کا سلسلہ شروع ہوا وہ نہایت دلچسپ ہے۔ بحث میں شامل دوستوں میں سے کسی ایک سے بھی کلی طور پر اختلاف یا اتفاق مشکل ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تناظر مختلف ہونے کے باعث سب نے اپنی اپنی جگہ کچھ… آگے پڑھیے پاکستانی جامعات پر تنقید: چند گزارشات