فکرِ اقبال اور پروفیسر ہود بھائی کا تنقیدی تناظر

شہر میں ایک بار پھر اقبال کا قدوقامت ماپنے کے لیے دقیقہ شناسانِ فلسفہ و سائنس کی محفل سجائی گئی۔ سچ بات ہے کہ بحث کا عنوان ہی اس کی فرسودگی کی چغلی کھاتا تھا کیوں کہ اس قبیل کی بحثیں کم ہی تسکین کا سامان ہوتی ہیں۔ بہرحال یوٹیوب پر موجود پر پوری گفتگو… آگے پڑھیے فکرِ اقبال اور پروفیسر ہود بھائی کا تنقیدی تناظر

سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی… آگے پڑھیے سائنس کی شعریات

اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

حاشر ارشاد صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب میں اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے پس منظر میں پاکستانی سوشل میڈیا کی عمومی وحشت ناک حالت کو خوب خوب آشکار کیا ہے۔ انہوں نے اس حالتِ زار کے تین نیم جینیاتی محرکات یعنی احساسِ کمتری، تعصب اورحماقت، اور ایک ذہنی معذوری یعنی علمِ طبیعات کی مبادیات سے مکمل لاعلمی… آگے پڑھیے اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

رازِ حیات اور جدید تحقیقات

میسا چوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فزکس کے چونتیس سالہ  اسسٹنٹ پروفیسر جیرمی انگلینڈ لفظوں کی کائنات کے اسیر ہیں اور ان کی تہہ میں  غواصی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ’شعور‘، ’علم‘، ’انفارمیشن‘ وغیرہ جیسے الفاظ کے استعمال سے ذرا پرہیز ہی کرتے ہیں  کیوں کہ ان کی رائے میں یہ الفاظ … آگے پڑھیے رازِ حیات اور جدید تحقیقات

سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان فرق پر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا چشم کشا مضمون نظر سے گزرا۔ میں سائنسی تحقیق کے تناظر میں مزاجاً محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے کُلی طور پر متفق ہوں، لہٰذا مجھےان کا مضمون مشاہداتی اور عملی اعتبارات سے بہت متوازن معلوم ہوا۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور، ایک نظری تناظر… آگے پڑھیے سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

علم محدود ہے اور جہل لا محدود۔ نظریاتِ علم میں اس  نظریے پر کارل پاپر کی سند  ہےکہ ہمیں علم کے حتمی ذرائع پر کسی قسم  کا  سیاسی ، سماجی اور مذہبی استبداد اس صورت تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ  وہ بلاتنقید ہو۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تمام تر علم انسانی  ہے، ہم  زیادہ سے زیادہ … آگے پڑھیے تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے… آگے پڑھیے مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

ارسطو کے دفاع میں

یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ… آگے پڑھیے ارسطو کے دفاع میں

مارٹن ہایڈیگر اور ہینا اہرنٹ

بات چل رہی تھی وجود اور ہستی کے متعلق ہایڈیگر کے دقیق فلسفے اور اس کے فہم کے سہل طریقے ڈھونڈنے کی اور جا پہنچی ذاتیات تک۔ اورجب بات ہو ہایڈیگر کی ذاتیات کی تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے نازی نظریات اور سیاسی وابستگیوں کا ذکر نہ چھڑے۔ سیاسیات پھر کسی وقت… آگے پڑھیے مارٹن ہایڈیگر اور ہینا اہرنٹ

علم کی دوئی

ایک زمانہ ہوا ہمارے دوست وقار احمد ملک نے علم کی دوئی کے موضوع پر بحث چھیڑی تھی اور ہلکے پھلکے انداز میں تعلیم و تدریس سے جڑے سماجی مظاہر سے ایک تنقیدی ربط پیدا کر کے دکھایا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے اشارتاً غیر سنجیدہ عقلی رویوں اور سنسنی خیزی کی جانب… آگے پڑھیے علم کی دوئی

معنی کی تلاش، حیی ابن یقظان اور رابنسن کروزو

میں اپنا سوال کچھ یوں وضع کرنے کی کوشش کرتا ہوں  کہ عدم تحفظ، ردعمل،  تعصب و نفرت، غیر  سے متقابل تعریف پاتی شناخت اور ایک حقیقی منہج علم کے مقابلے میں ایک تصوراتی منہج پر اصرار کچھ شش جہاتی مسائل ہیں لیکن  اگر انہیں کسی ایک جہت میں محدود کرنے کی کوشش کی جائے… آگے پڑھیے معنی کی تلاش، حیی ابن یقظان اور رابنسن کروزو

(انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو

برادرم ذیشان ہاشم کا اہم مضمون ’سب میرے ایک لیکچر کی مار ہے‘ نظر سے گزرا۔ سماج میں رد عمل کی نفسیات کے بارے میں ان کا تجزیہ نہایت متوازن معلوم ہوا۔ خاص طور پر ان کا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ یہ خود پسندی اور حتمی سچائی جاننے پر بے جا اصرار کا… آگے پڑھیے (انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو