فکرِ اقبال اور پروفیسر ہود بھائی کا تنقیدی تناظر

شہر میں ایک بار پھر اقبال کا قدوقامت ماپنے کے لیے دقیقہ شناسانِ فلسفہ و سائنس کی محفل سجائی گئی۔ سچ بات ہے کہ بحث کا عنوان ہی اس کی فرسودگی کی چغلی کھاتا تھا کیوں کہ اس قبیل کی بحثیں کم ہی تسکین کا سامان ہوتی ہیں۔ بہرحال یوٹیوب پر موجود پر پوری گفتگو… آگے پڑھیے فکرِ اقبال اور پروفیسر ہود بھائی کا تنقیدی تناظر

خاموشی کی تحریک

ایک  دوست نے  کل سوال کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے، کچھ لکھا کیوں نہیں؟ سادی سی بات تو یہی ہے کہ کچھ کہنے کو ہی نہیں۔ پچھلے دو دن کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ  ایک جنگ کا سا سماں ہے، فوجیں آمنے سامنے ہیں، نوحہ گری کے مقابلے جاری ہیں، ماتم… آگے پڑھیے خاموشی کی تحریک

کرپٹو کرنسی اور پاکستان کی ریاستی قدامت پسندی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ایک رسمی مراسلے میں عوام کو بِٹ کوائن سمیت تمام قسم کی کرپٹو کرنسیوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کرنسیوں یعنی کوائنز اور ٹوکنز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے… آگے پڑھیے کرپٹو کرنسی اور پاکستان کی ریاستی قدامت پسندی

اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

حاشر ارشاد صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب میں اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے پس منظر میں پاکستانی سوشل میڈیا کی عمومی وحشت ناک حالت کو خوب خوب آشکار کیا ہے۔ انہوں نے اس حالتِ زار کے تین نیم جینیاتی محرکات یعنی احساسِ کمتری، تعصب اورحماقت، اور ایک ذہنی معذوری یعنی علمِ طبیعات کی مبادیات سے مکمل لاعلمی… آگے پڑھیے اسٹیفن ہاکنگ اور ہمارے نقاد

ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

یہ رائے پڑھنے کو ملی کہ جنوبی ایشیاء کا کلچر شرم کے تصور کے ارد گرد گھومتا ہے جو کہ ایک نہایت تکلیف دہ احساس ہے۔ یہاں لوگ اس طرح ایک دوسرے کی قید میں ہیں کہ ہاتھوں پاؤں میں شرم اور احساسِ گناہ کی بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ چونکہ یہ ایک بند معاشرہ ہے لہٰذا… آگے پڑھیے ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان فرق پر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا چشم کشا مضمون نظر سے گزرا۔ میں سائنسی تحقیق کے تناظر میں مزاجاً محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے کُلی طور پر متفق ہوں، لہٰذا مجھےان کا مضمون مشاہداتی اور عملی اعتبارات سے بہت متوازن معلوم ہوا۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور، ایک نظری تناظر… آگے پڑھیے سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

قرأتِ متن اور انسانی دماغ

رطانوی مصنف رابرٹ ہیرس کا ناول ’’پومپیائی‘‘ کسی بھی اعلیٰ پاپولر فکشن ناول کی طرح ایک ایسی پُرکشش کہانی ہے جو اختتام سے پہلےقاری کو خود سے باآسانی الگ نہیں ہونے دیتی ۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے ناول کا پلاٹ تو اٹلی کے قدیم شہر پومپیائی میں ہونے والی تباہی کے گرد… آگے پڑھیے قرأتِ متن اور انسانی دماغ

ڈاکٹر خالد سہیل اچھے آدمی ہیں

عزیر دوست وقار ملک، مجھے تمہاری درست عمر معلوم نہیں لیکن گمان کیا جا سکتا ہے کہ میں اور تم ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ ہمارا مدارِ تعلق سوال سے محبت اور حیرت کی کشش ہے۔ یوں ہمارے مزاج کی نچلی ترین تہوں میں ایک ہی مٹی موجود ہے،… آگے پڑھیے ڈاکٹر خالد سہیل اچھے آدمی ہیں

کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

محترم برشوری صاحب نے مدارس کے نظامِ تعلیم پر جاری بحث پر ایک ’’اپالوجی‘‘ پیش کی ہے جس سے فریقین یقیناً فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناقص رائے پر ہرگز اصرار نہیں لیکن پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا ہے کہ برشوری صاحب نے یہاں ایسی کئی بحثوں کو ایک ساتھ چھیڑ دیا ہے… آگے پڑھیے کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

عقیدے پر بحث کا کیا مقصد ہے؟

محترم و مکرم قبلہ وجاہت مسعود صاحب کی تحریر ‘‘عقائد پر بحث ایک مناسب موضوع نہیں’’ معاشرتی صورتِ حال پر ایک اہم تبصرہ ہے۔ چونکہ راقم آج کل سوشل میڈیا کے مباحث سے کوسوں دور ہے لہٰذاگمان یہی ہے کہ اس مختصر تحریر کا محرک کوئی خاص بحث رہی ہو گی ۔ تاہم اس مختصر… آگے پڑھیے عقیدے پر بحث کا کیا مقصد ہے؟

مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے… آگے پڑھیے مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

ارسطو کے دفاع میں

یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ… آگے پڑھیے ارسطو کے دفاع میں

ڈاکٹر عبدالسلام ہمارے قومی احترام کا نشان ہیں

ڈاکٹرعبدالسلام ایک ایسا حوالہ ہیں جو ہمارے سماج میں مختلف فکری سرحدوں، عدم تحفظات پر مبنی اضطراب اور نظریاتی کھینچا تانی کو ظاہر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اسلام آباد کی ایک جامعہ میں انجینئرنگ کی ایک کلاس پڑھا کر باہر نکلا تو گیلری میں نصب ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کسی طالبعلم نے… آگے پڑھیے ڈاکٹر عبدالسلام ہمارے قومی احترام کا نشان ہیں

سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں

میں اب (یعنی اس تحریر لکھنے کے وقت) سے چند گھنٹے قبل اپنے مجازی سوشل میڈیا چیمبر میں موجود ہوں جو میری چند حسیات جیسے بصارت اور ذہنی ارتکاز کے علاوہ ایک آرام کرسی اور کمپیوٹر پر مشتمل ہے۔ معمول کے مطابق تسلسل سے معلومات میرے سامنے آ رہی ہیں جو متن، تصویر اور آواز… آگے پڑھیے سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں