مطالعۂ ایڈیٹ کیوں اور کیسے؟

این رسکا کے اس مضمون کا ترجمہ برادرم تصنیف حیدر کی ویب گاہ ادبی دنیا کے لیے کم و بیش دس سال قبل کیا گیا لیکن ویب گاہ بند ہونے کے باعث اب انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔ اتنے پرانے تراجم پر نظر ثانی کی بہت گنجائش ہوتی ہے لیکن فی الحال اسے بہت واجبی سے… آگے پڑھیے مطالعۂ ایڈیٹ کیوں اور کیسے؟

چوہدری محمدعلی ردولوی کے خطوط

جن کو یہ مرض لگا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ کتابیں خرید خرید کر گھر میں بھرنے کی بیماری انہیں پڑھ ڈالنے سے مشروط نہیں، خرید کر اپنا لینے کی ہوس پوری کرنے کے لئے صرف پڑھنے کی نیت ہی بہت کافی ہے۔ ہمارے گھر میں بھی یہ عام دیکھا گیا ہے کہ پچھلی… آگے پڑھیے چوہدری محمدعلی ردولوی کے خطوط

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

مطالعہ کیسے کیا جائے؟

بہاولپور کی تاریخی سنٹرل لائبریری کا ذکر تو قارئین کی اکثریت نے سن ہی رکھا ہو گا۔ یقیناً  اس تاریخی کتب خانے سے کئی احباب کی  یادیں بھی وابستہ ہوں گی۔ اب شاید پندرہ سولہ سال ہونے کو آئے اور یادوں پر وقت کی گرد پڑ گئی، لیکن بہاولپور میں دو سال قیام کے دوران… آگے پڑھیے مطالعہ کیسے کیا جائے؟

اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی

ہماری نسل نے ابن صفی اور مظہر کلیم کی عمران سیریز اشتیاق احمد کے بعد پڑھنی شروع کی۔ دو چار مغربی مصنفین کے علاوہ اشتیاق احمد اور اے حمید ہی تھے جنہوں نے تعلیم و تربیت، نونہال اور بچوں کی دنیا جیسے رسالوں سے اوپر اٹھ کر ہمیں ناولوں کے درجے پر اس تیزی سے پہنچایا… آگے پڑھیے اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی

داریوفو کی موت

چونکہ آج کل کے دور میں  جب تمام بین الاقوامی  ادبی و ثقافتی مظاہر ایک دوسرے کے کافی  قریب  آ چکے ہیں، موت  ہی  کسی فن کار کو متعارف  کروانے کا اہم محرک ہے۔ خاص طور پر   ہمارے جیسے ممالک میں جہاں بین الاقوامی ادب کے تراجم  تو پھر کسی حد تک  شوقین قارئین تک  پہنچ… آگے پڑھیے داریوفو کی موت

قصہ ایک شعری تصرف کا

ایک قابل احترام ’ مولوی صاحب ‘نے ایک ہی سانس میں ’سکہ بند علمائے دیوبند‘ کا قصیدہ پڑھتے اور دوسرے سانس میں ’درباری شعرا‘ پر دو حرف بھیجتے ہوئے ، کس بے دردی سے ہمارے زمانے کے ایک عظیم شاعر کے شعر میں تصرف کیا اور ’مٹی کی محبت‘ کو ’امت کی محبت ‘ سے… آگے پڑھیے قصہ ایک شعری تصرف کا

امبرٹو ایکو کے ناول ’فوکوکا پنڈولم‘ سے ایک اقتباس

”کیا تم کسی یونیورسٹی میں جاتے ہو یا پڑھائی وغیرہ کرتے ہو؟“ ”مانو یا نہ مانو لیکن ضروری نہیں کہ یہ دونوں قضایا باہم متناقض ہوں۔ میں ٹمپلر فرقے پر ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کے آخری مراحل میں ہوں۔“ ”کیا بکواس موضوع ہے،“اس نے کہا۔ ”میں سمجھتا تھا کہ پاگل لوگ ہی اس موضوع میں… آگے پڑھیے امبرٹو ایکو کے ناول ’فوکوکا پنڈولم‘ سے ایک اقتباس

امبرٹو ایکو کی موت

اکیسویں صدی کے سترہویں برس کے ستم مسلسل جاری ہیں۔پرسوں صبح ہارپر لی کے مٹی ہونے کی خبر تو بس آئی گئی ہو گئی کہ ان کا ناول To Kill A Mocking Bird پڑھنے سے بہت پہلے گریگوری پیک ہمارے ذہن میں اپنی لازوال فلم کے ذریعے اس کہانی کو امر کر چکے تھے۔ اپنی… آگے پڑھیے امبرٹو ایکو کی موت

جان سپرلنگ کا ناول ”دس ہزار چیزیں“

تاؤ  نے ایک کو جنم دیا، ایک نے دو کو، دو نے تین کو، اور پھر تین کے بطن سے دس ہزار چیزیں برآمد ہوئیں۔ (تاؤ تی ینگ) دس ہزار چیزوں کی تمام تر پیچیدگیوں سے انسان کی خود شعوری دس ہزار گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔(جان سپرلنگ، ”دس ہزار چیزیں“) قدیم چینی تہذیب کا سرسری… آگے پڑھیے جان سپرلنگ کا ناول ”دس ہزار چیزیں“

شیطان پر لعنت

ایوانوف نے اپنے لیے ایک اور جام بھرتے ہوئے دہرایا۔ ’’پرانے وقتوں میں حرص حیوانی نوعیت کی ہوتی تھی۔ اب اس کی نوعیت خالص استدلال کی ہے۔ اقدار بدلتی رہتی ہیں۔ میں ایک ایسا جذباتی ناٹک لکھنا چاہتا ہوں جس میں خدا اور شیطان دونوں سینٹ روباشوف کی روح کے حصول کی خاطر برسرِ پیکار… آگے پڑھیے شیطان پر لعنت

اسرائیل، سنو، میں جانتا ہوں میں کیا کہہ رہا ہوں!

تحریر: عامر ظَہر (ترجمہ: عاصم بخشی) اسرائیل، کیا تم دیکھ نہیں رہے کیا ہو رہا ہے؟ میں جیت گیا ہوں۔ کھیل ختم ہو چکا ہے۔ ساری دنیا میرے حق میں مظاہرے کر رہی ہے۔ تمہارے لئے کوئی بھی نہیں۔ یہ واضح ہے۔ پچھلے ہفتے، پانچ دنوں کے وقفے سے میں نے ڈیٹرائیٹ میں ایک ہزار… آگے پڑھیے اسرائیل، سنو، میں جانتا ہوں میں کیا کہہ رہا ہوں!