ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

یہ رائے پڑھنے کو ملی کہ جنوبی ایشیاء کا کلچر شرم کے تصور کے ارد گرد گھومتا ہے جو کہ ایک نہایت تکلیف دہ احساس ہے۔ یہاں لوگ اس طرح ایک دوسرے کی قید میں ہیں کہ ہاتھوں پاؤں میں شرم اور احساسِ گناہ کی بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ چونکہ یہ ایک بند معاشرہ ہے لہٰذا… آگے پڑھیے ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

بچہ مسلم لیگ بمقابلہ عاشق حسین بٹالوی

برادر بزرگ قبلہ عثمان قاضی نے عاشق حسین بٹالوی صاحب کے مولانا غلام رسول مہر کو لکھے خط کا ذکر کیا چھیڑا، سوشل میڈیا پر تو جیسے ایک قیامت سی آ گئی۔ردعمل میں اصحابِ علم و دانش نے ایسے ایسے نکات اٹھائے کہ تحریک ِ انصاف کے ٹائیگرز کا طریق استدلال معقول دکھائی دینے لگا۔… آگے پڑھیے بچہ مسلم لیگ بمقابلہ عاشق حسین بٹالوی

سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان فرق پر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا چشم کشا مضمون نظر سے گزرا۔ میں سائنسی تحقیق کے تناظر میں مزاجاً محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے کُلی طور پر متفق ہوں، لہٰذا مجھےان کا مضمون مشاہداتی اور عملی اعتبارات سے بہت متوازن معلوم ہوا۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور، ایک نظری تناظر… آگے پڑھیے سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

قرأتِ متن اور انسانی دماغ

رطانوی مصنف رابرٹ ہیرس کا ناول ’’پومپیائی‘‘ کسی بھی اعلیٰ پاپولر فکشن ناول کی طرح ایک ایسی پُرکشش کہانی ہے جو اختتام سے پہلےقاری کو خود سے باآسانی الگ نہیں ہونے دیتی ۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے ناول کا پلاٹ تو اٹلی کے قدیم شہر پومپیائی میں ہونے والی تباہی کے گرد… آگے پڑھیے قرأتِ متن اور انسانی دماغ

تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

علم محدود ہے اور جہل لا محدود۔ نظریاتِ علم میں اس  نظریے پر کارل پاپر کی سند  ہےکہ ہمیں علم کے حتمی ذرائع پر کسی قسم  کا  سیاسی ، سماجی اور مذہبی استبداد اس صورت تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ  وہ بلاتنقید ہو۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تمام تر علم انسانی  ہے، ہم  زیادہ سے زیادہ … آگے پڑھیے تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

ڈاکٹر خالد سہیل اچھے آدمی ہیں

عزیر دوست وقار ملک، مجھے تمہاری درست عمر معلوم نہیں لیکن گمان کیا جا سکتا ہے کہ میں اور تم ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ ہمارا مدارِ تعلق سوال سے محبت اور حیرت کی کشش ہے۔ یوں ہمارے مزاج کی نچلی ترین تہوں میں ایک ہی مٹی موجود ہے،… آگے پڑھیے ڈاکٹر خالد سہیل اچھے آدمی ہیں

کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

محترم برشوری صاحب نے مدارس کے نظامِ تعلیم پر جاری بحث پر ایک ’’اپالوجی‘‘ پیش کی ہے جس سے فریقین یقیناً فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناقص رائے پر ہرگز اصرار نہیں لیکن پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا ہے کہ برشوری صاحب نے یہاں ایسی کئی بحثوں کو ایک ساتھ چھیڑ دیا ہے… آگے پڑھیے کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

عقیدے پر بحث کا کیا مقصد ہے؟

محترم و مکرم قبلہ وجاہت مسعود صاحب کی تحریر ‘‘عقائد پر بحث ایک مناسب موضوع نہیں’’ معاشرتی صورتِ حال پر ایک اہم تبصرہ ہے۔ چونکہ راقم آج کل سوشل میڈیا کے مباحث سے کوسوں دور ہے لہٰذاگمان یہی ہے کہ اس مختصر تحریر کا محرک کوئی خاص بحث رہی ہو گی ۔ تاہم اس مختصر… آگے پڑھیے عقیدے پر بحث کا کیا مقصد ہے؟

مطالعہ کیسے کیا جائے؟

بہاولپور کی تاریخی سنٹرل لائبریری کا ذکر تو قارئین کی اکثریت نے سن ہی رکھا ہو گا۔ یقیناً  اس تاریخی کتب خانے سے کئی احباب کی  یادیں بھی وابستہ ہوں گی۔ اب شاید پندرہ سولہ سال ہونے کو آئے اور یادوں پر وقت کی گرد پڑ گئی، لیکن بہاولپور میں دو سال قیام کے دوران… آگے پڑھیے مطالعہ کیسے کیا جائے؟

جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

اپنے نیم میکانی استمراری معمول کے مطابق میں ان دنوں بھی کئی کتابیں  ایک ساتھ پڑھ رہا ہوں۔ دنوں مہینوں سالوں کی قید کچھ خاص معنی نہیں رکھتی لیکن حرص مجھے ہر لمحہ ماپ تول  کی جانب مائل رکھتی ہے۔ کیا روز ایک کتاب؟ ہفتے میں دو، تین یا چار؟ چلو  یہ سہ ماہی ہر… آگے پڑھیے جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے… آگے پڑھیے مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

ارسطو کے دفاع میں

یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ… آگے پڑھیے ارسطو کے دفاع میں