کیسی دبدھا، کاہے کی دبدھا؟

رادرم وقار احمد ملک نے دو ایک شب قبل فون پر یہ آگاہی دیتے ہوئے اسے ستم ظریفی کہا کہ ان کے قریبی حلقۂ احباب میں تین چار حضرات نے راقم کی کتاب ”دبدھا“ کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ جو بات اس فقیر کے لیے نہایت مسرت کا باعث تھی، اسے نہ جانے… آگے پڑھیے کیسی دبدھا، کاہے کی دبدھا؟

سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی… آگے پڑھیے سائنس کی شعریات

تبدیلی کی حرکیات

فرض کیجیے آپ کے پاس دو ایک جیسے برتنوں میں مختلف درجۂ حرارت پر گرم کی گئی پانی کی ایک جتنی مقدار موجود ہے۔ پہلے برتن میں موجود پانی کا درجۂ حرارت نوے جب کہ دوسرے برتن میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ آپ دونوں برتنوں کو ایک ساتھ سرد خانے میں رکھ دیتے ہیں۔… آگے پڑھیے تبدیلی کی حرکیات

ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

یہ رائے پڑھنے کو ملی کہ جنوبی ایشیاء کا کلچر شرم کے تصور کے ارد گرد گھومتا ہے جو کہ ایک نہایت تکلیف دہ احساس ہے۔ یہاں لوگ اس طرح ایک دوسرے کی قید میں ہیں کہ ہاتھوں پاؤں میں شرم اور احساسِ گناہ کی بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ چونکہ یہ ایک بند معاشرہ ہے لہٰذا… آگے پڑھیے ننگا ڈیوڈ، درازوں والی وینس اور شرم کا کلچر

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

سوشل میڈیا کی ایک محفل میں دوست اس لطیفے سے لطف اٹھا رہے تھے کہ کسی مغربی یونیورسٹی میں اقبال کی شاعری سے شناسا فلسفے کے ایک پروفیسر صاحب کو خطباتِ اقبال پیش کیے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی تو شاعری ہی ہے۔ اقبال چونکہ ہمارے ہاں ایک مفکر نہیں بلکہ… آگے پڑھیے کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

قرأتِ متن اور انسانی دماغ

رطانوی مصنف رابرٹ ہیرس کا ناول ’’پومپیائی‘‘ کسی بھی اعلیٰ پاپولر فکشن ناول کی طرح ایک ایسی پُرکشش کہانی ہے جو اختتام سے پہلےقاری کو خود سے باآسانی الگ نہیں ہونے دیتی ۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے ناول کا پلاٹ تو اٹلی کے قدیم شہر پومپیائی میں ہونے والی تباہی کے گرد… آگے پڑھیے قرأتِ متن اور انسانی دماغ

تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

علم محدود ہے اور جہل لا محدود۔ نظریاتِ علم میں اس  نظریے پر کارل پاپر کی سند  ہےکہ ہمیں علم کے حتمی ذرائع پر کسی قسم  کا  سیاسی ، سماجی اور مذہبی استبداد اس صورت تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ  وہ بلاتنقید ہو۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تمام تر علم انسانی  ہے، ہم  زیادہ سے زیادہ … آگے پڑھیے تین دنیاؤں میں پھنسا متلی زدہ آدمی

ڈاکٹر عبدالسلام ہمارے قومی احترام کا نشان ہیں

ڈاکٹرعبدالسلام ایک ایسا حوالہ ہیں جو ہمارے سماج میں مختلف فکری سرحدوں، عدم تحفظات پر مبنی اضطراب اور نظریاتی کھینچا تانی کو ظاہر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اسلام آباد کی ایک جامعہ میں انجینئرنگ کی ایک کلاس پڑھا کر باہر نکلا تو گیلری میں نصب ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کسی طالبعلم نے… آگے پڑھیے ڈاکٹر عبدالسلام ہمارے قومی احترام کا نشان ہیں

سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں

میں اب (یعنی اس تحریر لکھنے کے وقت) سے چند گھنٹے قبل اپنے مجازی سوشل میڈیا چیمبر میں موجود ہوں جو میری چند حسیات جیسے بصارت اور ذہنی ارتکاز کے علاوہ ایک آرام کرسی اور کمپیوٹر پر مشتمل ہے۔ معمول کے مطابق تسلسل سے معلومات میرے سامنے آ رہی ہیں جو متن، تصویر اور آواز… آگے پڑھیے سوشل میڈیا کا سرکس اور سچی جھوٹی تصویریں

اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی

ہماری نسل نے ابن صفی اور مظہر کلیم کی عمران سیریز اشتیاق احمد کے بعد پڑھنی شروع کی۔ دو چار مغربی مصنفین کے علاوہ اشتیاق احمد اور اے حمید ہی تھے جنہوں نے تعلیم و تربیت، نونہال اور بچوں کی دنیا جیسے رسالوں سے اوپر اٹھ کر ہمیں ناولوں کے درجے پر اس تیزی سے پہنچایا… آگے پڑھیے اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی

سماجی مکالمے کی کچھ لسانی مشکلات

عصری لسانیاتی فلسفے کی ایک مخصوص جہت بہت تیزی سے مشاہداتی اور تجرباتی بنیادوں پر یہ واضح کرتی چلی جا رہی ہے کہ الفاظ کچھ ایسے معنویاتی گروہوں سے مضبوطی سے منسلک ہوتے ہیں جو اپنی ٹھوس سماجی و تاریخی بنیادیں رکھتے ہیں۔ہماری رائے میں بنیادی ضرورت اس امر کی ہے کہ مکالمے میں کسی… آگے پڑھیے سماجی مکالمے کی کچھ لسانی مشکلات

رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

اس لب کشائی کی اول و آخر علت پروفیسر ہود بھائی کا وہ دلچسپ انگریزی کالم ہے جو پچھلے سال ڈان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ حال ہی میں ’ہم سب‘ کے صفحات پر شائع ہوا۔ خواہ ہود بھائی صاحب ہوں، اسلام آباد کے کوئی روحانی کارڈیالوجسٹ ہوں، ہومیو پیتھک اور پانی سے… آگے پڑھیے رائج سائنسی تناظر کی فکری حدبندیاں اور پاکستانی جامعات

گلہ بانی نفسیات اور مذہب

چونکہ ہمارے سماج میں مذہبی تعبیر سماج کو ریوڑ کی طرح ہانکنے کی ایک چھڑی ہے سو جب جب اس سے آواز آئی ہے کہ فلاں کافر ہے تو پورے ریوڑ نے یک زبان ہو کر کہا ہے کہ ہاں ہاں فلاں کافر ہے۔ چند گنی چنی بکریوں نے ڈر کر ممیانے کی کوشش کی… آگے پڑھیے گلہ بانی نفسیات اور مذہب

داریوفو کی موت

چونکہ آج کل کے دور میں  جب تمام بین الاقوامی  ادبی و ثقافتی مظاہر ایک دوسرے کے کافی  قریب  آ چکے ہیں، موت  ہی  کسی فن کار کو متعارف  کروانے کا اہم محرک ہے۔ خاص طور پر   ہمارے جیسے ممالک میں جہاں بین الاقوامی ادب کے تراجم  تو پھر کسی حد تک  شوقین قارئین تک  پہنچ… آگے پڑھیے داریوفو کی موت

وحدت، کثرت یا کثرت میں وحدت

گزشتہ تحریر پر تبصروں میں ایک علم  دوست  شخصیت جناب عاطف حسین صاحب نے  دو سوالات اٹھائے جن کا لب لباب یہ ہے کہ اس  قسم کا پراجیکٹ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے جو فریقین  کو اپنے اپنے اعتقادات پسِ پشت  ڈالنے  کی دعوت دے رہا ہو  کیوں کہ اس طرح تو یہ لازم آئے … آگے پڑھیے وحدت، کثرت یا کثرت میں وحدت