حاشر ارشاد صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب میں اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے پس منظر میں پاکستانی سوشل میڈیا کی عمومی وحشت ناک حالت کو خوب خوب آشکار کیا ہے۔ انہوں نے اس حالتِ زار کے تین نیم جینیاتی محرکات یعنی احساسِ کمتری، تعصب اورحماقت، اور ایک ذہنی معذوری یعنی علمِ طبیعات کی مبادیات سے مکمل لاعلمی کی کئی شہادتیں فراہم کی ہیں۔ خادم ان چاروں جہتوں میں اس اضافے کی جسارت کرے گا کہ لاعلمی یا معذوری پر تو قابو پایا جا سکتا ہے کہ عمر اور تجربے سے قطع نظر، علم بہرحال محنت اور اکتساب سےحاصل کیا ہی جا سکتا ہے لیکن اس بیماری کا کیا علاج ہے اگر اپنی معذوری پر فخر ظاہر کیا جائے اور تعصب کو ایک افضل قدر کے طور پر پیش کیا جائے؟

ہم جانتے ہیں کہ ہاکنگ کا بنیادی میدان نظری طبیعیات تھا جس میں تمام تر دعوؤں کی اساس ریاضیاتی خاکہ بندی پر ہی رکھی جاتی ہے۔ مغربی پریس میں اُن کے علمی ورثے کی اہمیت پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن راقم کی رائے میں تیسری دنیا کے ہم جیسے مشرقی ممالک میں ابہام پسندی اور تعین پسندی کے مابین اس جنگ کی اہمیت دو چند ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے ہاں ریاضی اور طبیعیات سے اہل فلسفہ و ادب اور اہلِ مذہب کا تخلیقی شغف کم سے کم ہونا ہے۔ با الفاظ دیگر ہمارے ہاں ریاضی یا اس سے جڑا ایک مخصوص تعین پسند رجحان تاحال ثقافت میں جگہ نہیں بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس موقع پر Brief History of Time کے آخر میں وہ چند سطور پڑھ لینا مفید ہو گا جو ہاکنگ کے ذہن میں فلسفے اور سائنس کے درمیان اس علمیاتی کشمکش کو ظاہر کرتی ہیں۔
ہاکنگ کا کہنا تھا کہ کائنات پر غور و فکر کرتے سائنسدانوں نے تاحال خود کو ”کیوں“ سے دور رکھتے ہوئے ”کیسے“ پر توجہ دی ہے اور”کیوں“ کا میدان اہلِ فلسفہ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اٹھارہویں صدی تک اہلِ فلسفہ سائنس سمیت پوری اقلیمِ علم پر براجمان تھے اور کائنات کے آغاز و انجام کے متعلق سوالوں پر استدلال کا حق محفوظ رکھتے تھے۔ لیکن آخر کار سائنس فلسفیوں کے لئے بہت زیادہ ریاضیاتی اور تکنیکی ہو گئی اور یوں سائنس اور فلسفے کے دائرے علیحدہ ہو گئے۔ یہ دائرہ بالآخر اتنا محدود ہوا کہ وٹجنسٹائن کے بقول فلسفے کا بچا کھچا کام اب بس لسانی تجزیہ ہی رہ گیا ہے۔ ہاکنگ نے فلسفے کی موت کا یہ اعلان اس کے بعد بھی متعدد بار کیا۔
اگرمغربی اہلِ فلسفہ کی جانب سے ہاکنگ کی تنقید کے جوابات پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہمارے ہاں ان کی موت کے بعد اس نہج پر ہونے والے تنقیدی مباحث پر ہنسی بھی نہیں آتی۔ آخر ہنسنے کے لیے بھی کسی ایسی لطافت کو تلاش کرنا ضروری ہے جو ظریفانہ جہت رکھتی ہو۔ ہمارے ہاں کے مخصوص تنقیدی مبحث کی ایک اعلیٰ مثال وہ دلچسپ خرد دشمن سماجی تحریک ہے جسے کافی عرصے سے خرد افروز تصوراتی تنقید یا اصطلاحی الفاظ میں ایک نیم مارکسی Ideologiekritik کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تو خیر ایک الگ بحث ہے کہ یہ تنقید کس حد تک مارکسی ہے، فی الحال تو بس یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا لے کرکسی نادیدہ ہدف پر چاندماری کی جا رہی ہے۔ مذہب بمقابلہ سائنس کےمشہور عوامی محاذ کے برعکس یہ محاذ فلسفے اور سائنس کے بیچ میں ہے اور پاکستانی سوشل میڈیا پر خود کو ”فلسفی“ یا ”فلسفہ شناس“ یا ”فلسفہ دوست“ یا ”سماجی سائنس“ کے علم بردار ظاہر کرنے والے طبقات تیزی سے اس بیماری کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔
طریقۂ واردات یہ ہے کہ سائنسی علمیات کو لبرل ازم کی اقدار یا سرمایہ دارانہ مقاصد تک محدود کر دیا جائے اور پھر مابعدالجدید فلسفیوں اور فلسفۂ سائنس کے نراجیت پسند اہلِ علم و تحقیق کے اقوالِ زریں کو بنیاد بنا کر سائنسی علمیات اور اس سے حاصل کردہ علم کو ایک مکروہ شے ثابت کیا جائے۔ سائنسی علمیات کے مذہبی نقادوں کی طرح یہاں بھی مقصد زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ سائنسی علمیات کے برعکس اپنے پاس موجود علمیاتی منہج کو معروضی اور قطعی ثابت کیاجائے اور سماج کو اس سے ملتی جلتی نظریاتی بیڑیوں میں قید کیا جائے جس کی ایک مخصوص تاریخیت پسند جہت کا فلسفیانہ خاکہ کارل پاپر نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب Open Society and Its Enemies (1945) میں کھینچا تھا۔
ظاہر ہے کہ ہمارے ان پاکستانی نقادوں کے اضطراب سے سائنسی علمیات کا تو کچھ بگڑنے والا نہیں کیوں کہ اس پر تنقید کی خاطر تو تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہاں پہلے ہی سے ریاضی اور عملی سائنس سےدور بھاگتے، مقامی سوشل میڈیا کے مباحث پر وقت ضائع کرتے نوجوانوں کی شکست خوردہ نفسیات کی تسکین کا سامان اور انہیں عملیت پسند نتائج کی بجائے مبہم نظریات کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے پر ایک التباسِ علم کی خوش فہمی میں مبتلا کرنا ضرور ممکن ہے۔ رچرڈ فین مین کےدروسِ سائنس اور ہیگل کے دروسِ تاریخ میں سے کس کی تفہیم پر اپنا وقت لگایا جائے یقیناً ایک مزاجی ترجیح کا معاملہ ہے، لیکن اگر آئلر کی ریاضی اور فورئیر کی خوبصورت تھیوریوں میں غواصی کی بجائے نوجوانوں کو فلسفۂ سائنس کے نراجیت پسند نظریات سے متعارف کروایا جائے اور سائنس کے میدان میں صفر نظری اور عملی تحقیق ہوتے ہوئے سائنسی ”میتھڈ“ کے خلاف سبق پڑھایا جائے تو اسے تعصب کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے!
بہرحال اسٹیفن ہاکنگ کی موت کے پس منظر میں اس بحث کو دوبارہ چھیڑنا فائدے سے خالی نہیں جو خالص اہلِ فلسفہ اور اہلِ سائنس کے درمیان نہیں بلکہ ابہام پسندی اور تعین پسندی یا خالص معروضیت اور خالص موضوعیت کے درمیان محاذ آرائی پر مبنی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس محاذ آرائی میں اسٹیفن ہاکنگ اپنے تمام تر باجواز یا بلاجواز تعصبات کے ساتھ سائنسی معروضیت کے ساتھ تھے۔ آئیے ذرا کچھ تعین پسندی کے ساتھ فلسفے اور سائنس میں سرحد کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کیا آپ سمجھتےہیں کہ اشیاء کے کسی بھی زیرِ بحث مجموعے کی تعداد کا مسئلہ کائنات کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے؟ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ آپ اعداد یا عدد کی حقیقت کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہیں اور اس سوال کوکچھ خاص اہم نہیں سمجھتے یعنی آپ کو آم کھانے سے مطلب ہے پیڑ گننے سے نہیں۔ لیکن پیڑ نہ سہی آم تو گننے ہی ہوں گے۔ تو سوال یہ ہے کہ آپ کہاں تک گنتی گن سکتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں سب سے بڑا عدد کیا ہے؟
اگر آپ کا جواب ”لامتناہی“ ہے تو اب ہمیں ماننا ہی ہو گا کہ یہاں قوسین میں دیا گیا یہ لفظ استعمال کرتے ہی آپ کا جواب ایک مخصوص ابہام کا شکار ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ اگر آپ نے دسویں جماعت میں ریاضی کا امتحان پڑھ لکھ کر پاس کیا ہے تو آپ لامتناہیت کے متعلق اس ابہام کو علامتی اظہار کے کچھ اصولوں میں قید کر کے اشیاء کے بڑے مجموعوں اور اشیاء کے درمیان نسبتوں کے طویل اورنہ ختم ہونے والے سلسلوں کو جمع تفریق کرنے کے چند ضروری قواعد سیکھ چکے ہیں۔ اگر آپ نے دسویں سے آگے فزکس پڑھی ہے تو اب آپ ان قواعد کی مدد سے کئی ہمارے اردگرد بکھرے ان گنت عملی مسائل میں ان قواعد کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔
فرض کیجیے ایسا نہیں ہے پھر بھی آپ کو پانچویں جماعت کا یہ سبق تو یاد ہی ہو گا کہ جفت اعداد کیا ہوتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ہم یاددہانی کرائے دیتے ہیں کہ جفت اعداد وہ اعداد ہوتے ہیں جنہیں دو پر تقسیم کیا جا سکے یعنی دو، چار، چھ، آٹھ، دس، وغیرہ۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کل اعداد ”لامتناہی“ ہیں تو جفت اعداد کتنے ہوں گے؟ ایک ”معقول“ گمان یہی ہے کہ چونکہ ہر دوسرا عدد جفت ہے لہٰذا ”لامتناہی“ سے آدھے ہوں گے۔ لیکن یہ جواب حتمی نہیں کیوں کہ منطقی طور پر خود بخود ایک اور سوال کو دعوت دے رہا ہے، اور وہ یہ کہ” لامتناہی“ کا آدھا کتنا ہوتا ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ” نصف لامتناہی“ لیکن جوابات کا یہ طریقہ بہت جلدی تناقضات کا شکار ہو جائے گا اور خود تعداد کے تصور کے بارے میں چند لاینحل اشکالات پیدا کرے گا۔
یاد رکھیے کہ ہم فی الحال نظری اور مابعدالطبیعاتی مباحث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سو فی صد قطعیت سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بالفرض اگر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکے تو ارد گرد موجود خالصتاً طبیعیاتی یعنی مادی دنیا میں ایک بھونچال ساواقع ہو سکتا ہے۔ مثلا ً ہو سکتا ہے کہ جس موبائل فون پر آپ برطانیہ سے براہِ راست تیسری دنیا میں موجود اسلام کے مضبوط قلعے میں سائنس کی تنقید میں لکھے گئے وحشت ناک مابعدالجدید فلسفے مسلسل نشر کر رہے ہیں وہ ایجاد ہی نہ ہو! یا پھر وہ تمام حسابی عمل ہی ممکن نہ ہو سکے جو انٹرنیٹ کی ایجاد کے لیے ضروری ہے! اگربالفرض ایسا ہی ہوا تو آپ کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی جس نے تاحال مابعدالجدید فلسفیانہ موشگافیوں سے باہر عملی دنیا میں قدم رکھ کر ”شے“ اور ”اشیاء“ کے درمیان نسبتوں سے تاحال کوئی سروکار رکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
اگر آ پ یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو یقیناً یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں گے کہ آخر ”لامتناہی“ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ ہم نے اس کی تعریف ہی ایک سب سے بڑے عدد یعنی اعداد کے”لامحدود“ سلسلے کی آخر حد کے طور پر کی تھی۔ لامحدود سلسلے کو حد فراہم کرنا ایک واضح منطقی اشکال ہے۔ ہم اس اشکال سے نکلنے کی خاطر رسمیت پسند سمجھوتے کرتے ہیں اور کچھ تعریفات کو ماقبل تجربی مان کر ہی آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں عملی اور نظری ریاضی کے دائرے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ سائنسدان یا انجینئر ہیں تو جانتے ہی ہوں گے کہ” لامتناہی“ کو دو پر تقسیم کیا جائے تو جواب ”لامتناہی“ ہی آتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک نظری ریاضی دان ہیں تو یہ جواب کافی تفصیل کا محتاج ہے اور ایسے علامتی یا رسمی سمجھوتوں پر اکساتا ہے جو ایسی نظریہ بندی لازم کرتے ہیں جو داخلی منطقی اشکالات سے پاک ہو۔ لیکن اس نظریہ بندی کے دائرے سے باہر ایک عملی دائرے میں یہ سوال اپنی جگہ جوں کا توں موجود رہتا ہے کہ اعداد کے لامحدود سلسلوں کو حدیں کس طرح فراہم کی جائیں؟ اس عملی دائرے میں اس سوال کا جواب آج پوری دنیا میں ہائی اسکول کے نصاب کا حصہ ہے۔
ہم ان مضطرب نقادوں سے یہ سوال کرنا چاہتےہیں کہ کیا اشیاء کے کسی بھی ضخیم مجموعے یا ان کے مابین نسبتوں کےکسی بھی سلسلے کو جمع کرنے کا یہ مسئلہ فلسفیانہ ہے یا سائنسی؟ دونوں صورتوں میں ایک ایسے حل تک کیوں کر پہنچا جائے جہاں جواب یوں حتمی ہو کہ کم از کم عملی اعتبار سے کوئی دو رائے ممکن نہ ہوں؟ کیا کائنات میں موجود”لامتناہی“ سلسلوں سے متعلق یہ سوالات مثلاً ”یہ کائنات کتنی بڑی ہے؟ “ ، ”اس کی حدود کیا ہیں؟ “ ، ” اس کا پھیلاؤ کیوں کر اور کس درجہ ہے؟ “ کا تجزیہ خالص فلسفیانہ منہج سے ممکن ہے یا پھر خالص سائنسی منہج سے؟ کیا یہ نظری طبیعات کے سوالات ہیں یا فلسفیانہ مابعدالطبیعات کے؟ یا پھر ”حقیقت کیا ہے؟ “ کا بنیادی ترین سوال ہی کہیں بین بین ڈول رہا ہے؟
ظاہر ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے یہ سوال جلد از جلد اُس اقلیمِ علم میں داخل ہوتے جا رہے ہیں جہاں سائنسی منہج ہی کچھ ایسے جوابات تک رسائی دے سکتا ہے جو ممکنہ حد تک تعین پر اصرار کر سکتے ہوں۔ اگر ہمارے ہاں کے مقامی اہلِ فلسفہ اپنی کسی معذوری کے باعث سائنسی یا ریاضیاتی منہج سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں تو پھر انہیں فلسفۂ مذہب و اخلاق، ادبی تعبیر اوربچے کھچے مابعدالطبیعاتی یا نفسیاتی مسائل کے دائرے ہی میں تحقیق جاری رکھنی چاہیے۔ جہاں تک فلسفۂ ذہن و شعور، لسانیات اور مظہری مباحث کا سوال ہے تو وہاں پر پہلے ہی ایک نیم سائنسی منہج اپنی جگہ بنا چکا ہے اور متعین تعبیری خاکے تیزی سے مبہم تعبیرات کی جگہ لے رہے ہیں۔ اپنے تعصب یا احساس کمتری میں علم دشمنی پر ڈٹ جانا کوئی مثبت سماجی مظہر نہیں۔
واضح رہے کہ ہمارے ہاں کے اس محدود تنقیدی منظرنامے سے بڑھ کر فلسفیانہ منہج میں شامل ابہام پسندی اور فلسفیانہ تحقیق میں ترقی کا یہ مسئلہ ایک وسیع عالمی تناظر رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ اپنے پاکستانی نقادوں سے مخاطب تو نہیں تھے۔ فلسفیانہ منہج کے اس عمومی تناظرسے واقفیت کے لیے پچھلی ایک دہائی میں ”میٹا فیلوسفی“ یا مہافلسفہ میں ہونے والی اہم تحقیق پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ علاوہ ازیں عمومی فلسفیانہ مسائل یعنی انگریزی عرفِ عام میں ”پرابلمز آف فلاسفی“ پر قلم کشائی کی روایت بہت پرانی ہے اور فلسفے کو عوامی حیثیت میں متعارف کروانے والے کئی اہلِ فلسفہ نے اس عنوان سے مستقل کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ اس عنوان کے تحت شائع شدہ تحقیقی مواد کا کم از کم ڈیڑھ سو سال کا ایک عمومی خاکہ بھی فلسفے کے شائق قارئین کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے تاکہ فلسفے اور سائنس کی ثنویت پسندی میں اپنا حصہ ڈالتے ہمارے ہاں کہ اہل فلسفہ و مذہب کی تنقیدوں کی سطحیت کا درجہ دریافت کرنے میں آسانی ہو۔
یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کم از کم ڈیڑھ سو سال میں مہا فلسفے یا عمومی فلسفیانہ منہج میں تحقیق کا یہ سلسلہ ہمارے زمانے تک پہنچتے پہنچتے خود اپنے اوپربھی تعین پسند سائنسی منہج کا اطلاق کر چکا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہی ہے کہ ابہام پسندی پر مبنی دعوؤں کی جانچ پڑتال، مشاہدے اور تجزیے کے لیے خود فلسفے کے اندر کوئی ایسے طریقے ایجاد نہیں ہو سکے جن کو حتمی مانا جا سکے اور اجتماعی علمی مسائل کے حل میں ان سے مدد لی جا سکے۔ یہ بعینہٖ وہی فرق ہے جو اردو بازار لاہور سے شائع ہونے والی فلسفیانہ مباحث پر مبنی نیم سرقہ زدہ کتابوں اور خالص معطیات (یعنی ڈیٹا) کی بنیاد پر ماقبل تجربی مفروضہ بندی کو جانچ پڑتال کے عمل سے گزار کر تنقید کو کم از کم زبانِ اردو ہی کے مقامی مجلوں میں اشاعت کے لیے پیش کرنے میں ہے۔
مہافلسفے پر سائنسی منہج کا اطلاق اور مبنی بر معطیات تجزیوں کا ایک دلچسپ مظاہرہ دیکھنا ہو توڈیوڈ بورگٹ اور ڈیوڈ چالمرز کا ا یک حالیہ سروے ضرور ملاحظہ کیجئے جس کا عنوان ہے:”فلسفی کیا مانتے ہیں؟ “ (Bourget David, and David J. Chalmers. What do philosophers believe? “ Philosophical Studies 170, no. 3 (2014): 465. 500. )۔
یہ تیس سوالوں پر مشتمل ایک سروے ہے جو امریکہ، یورپ اور براعظم آسٹریلیا کی جامعات میں چوٹی کے نناوے شعبہ ہائے فلسفہ کو بھیجا گیا۔ تجزیاتی فلسفوں سے متعلق تقریباً دو ہزار فلسفیوں نے ان سوالات کا جواب دیا۔ بالفرض اس سروے میں شامل دلچسپ سوالات کے جوابات سے کوئی بھی نتیجہ نہ نکالا جائے تو یہ فی نفسہٖ اس کڑوی گولی کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں جو ہمارے ہاں کے نقادوں کے لیے نگلنی مشکل ہے۔ پھر اگر بالفرض ان سوالوں کو چھوڑ بھی دیا جائے جو بظاہر خالص اعتقادی یا تجزیاتی ہیں جیسے وجودِ خدا، جبر و قدر یا اخلاقیات تو بھی یہ کڑوی گولی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ تجریدیت پسندی یعنی مجرد حقیقت کے وجود کے بارے میں انتالیس فی صد فلسفی فلاطونیت پسند جب کہ اڑتیس فی صد اسمائیت پسند ہیں۔ باقی ماندہ کہیں بیچ میں ڈول رہے ہیں۔
کیا کسی معروضی جمالیاتی قدر کا وجود ہے؟ پینسٹھ فی صد کا جواب ہاں جب کہ ستائیس فی صد کا نفی میں ہے۔ باون فی صد کلاسیکی منطق جب کہ پندرہ فی صد غیرکلاسیکی منطق کے حق میں ہیں۔ ستاون فی صد ذہن کے بارے میں ایک مادیت پسند نظریہ رکھتے ہیں جب کہ ستائیس فی صد اس معاملے میں غیرمادیت پسند ہیں۔ ذاتی تشخص کے سوال پر چونتیس فی صد نفسیاتی جب کہ سترہ فی صد حیاتیاتی نظریہ رکھتے ہیں۔ پچھتر فی صد سائنسی حقیقت پسند ہیں جب کہ بارہ فی صد غیرحقیقت پسند ہیں۔ انتقالِ مادہ کے اشکال پر چھتیس فی صد کا خیال یہ ہے کہ موت واقع ہوجائے گی۔ سچائی کے متعلق مختلف فلسفی مختلف نظریات رکھتے ہیں ۔ چھتیس فی صد کا خیال ہے کہ ”زومبی“ کا وجود قابلِ ادراک ہے لیکن مابعدالطبیعیاتی طور پر خارج از امکان ہے، تئیس فی صد مابعدالطبیعیاتی امکان کے حق میں ہیں، جب کہ سولہ فی صد کا خیال ہے کہ ادراک ہی ممکن نہیں۔
ہمارا سائنس کے ”میتھڈ“ پر سوال اٹھاتےنراجیت پسند ناقدین سے یہ سوال ہے کہ آپ یہی بتا دیجیے کہ آخر فلسفیانہ ”میتھڈ“ کیا ہے؟ ظاہر ہے یہ قواعد و ضوابط کا ایک ایسا طریقۂ کار ہونا چاہیے جو ہمیں کم از کم جزوقتی حتمی جوابات مہیا کرے! پھر آخر اس ”میتھڈ“ کا اطلاق کیوں کر ممکن ہو اور اس کےاصول کیا ہوں؟ بالفرض اگر دو فلسفی منطقی منہج پر ہی اتفاق کے قابل نہیں تو آخر فلسفہ تفلسف یا تجزیے کی قابلیت اور تاریخِ فلسفہ یا تاریخ فکر و تجزیہ سے بڑھ کر کیا ہے؟ دو فلسفی جب سامنے موجود شے پر بحث کے دائرۂ کار کا ضابطہ یوں نصب نہیں کر سکتے کہ بحث کم از کم نظری طور پر ہی کسی حتمی انجام کی جانب بڑھے تو اس شدید غیرحتمی منہج کے بالمقابل سائنسی منہج کا سہارا کیوں نہ لیا جائے جو کم از کم شے کے اس حد تک تفہیم و تجزیہ میں حتمی ہے کہ اس پر طبیعیاتی اجارہ داری قائم کر کے اسے انسانی اختیار و ارادے کے تابع کیا جا سکے؟
حقیقت یہ ہے کہ ادب ، فنونِ لطیفہ، لسانی تھیوری، قانون، مابعدالطبیعیات، اخلاقیات، فلسفۂ ذہن و شعور، جمالیات یہاں تک کہ مذہب سے متعلق تعبیری مسائل کی حد تک بھی فلسفہ تیزی سے سائنسی منہج یعنی ماقبل تجربی ریاضیاتی یا نیم ریاضیاتی محکم خاکہ بندی، متعین تجزیاتی ڈھانچوں مثلاً علامتی اور رسمی منطق، معطیات کی بنیاد پر ان خاکوں کی تشکیل وتوسیع، تجرباتی جانچ پڑتال اور ایک بار پھر خاکہ بندی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے دائرے کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ایسے میں اہلِ فلسفہ کو منطق کے علاوہ جدید ریاضی، ڈیٹا سائنس اور تجزیاتی الگورتھم وغیرہ جیسے آلات درکار ہوں گے جن کے حصول کے لئے سماجی تحریکیں چلانا اس سے کہیں اہم ہے کہ مبہم، متروک اور ناکارہ تجزیاتی فلسفوں میں ڈوب کر التباسِ علم کی خوش فہمی سے ایک اونگھتی ہوئی قوم کے نوجوانوں کو تھپکیاں دی جائیں۔