علم محدود ہے اور جہل لا محدود۔ نظریاتِ علم میں اس نظریے پر کارل پاپر کی سند ہےکہ ہمیں علم کے حتمی ذرائع پر کسی قسم کا سیاسی ، سماجی اور مذہبی استبداد اس صورت تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بلاتنقید ہو۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ تمام تر علم انسانی ہے، ہم زیادہ سے زیادہ بس یہی کر سکتے ہیں کہ نامعلوم کے اندھیرے میں معلوم کو ٹٹولنے کی کوشش جاری رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تسلیم کر لینے میں بھی کوئی عار نہیں کہ ہمارا یہ ٹٹولنا کسی نہ کسی قسم کے الہامی یا وجدانی محرکات کے زیرِ اثر بھی ہو سکتا ہے۔لیکن ہمیں ان محرکات پر مبنی اعتقادات اور ان کے اطلاقات کے بارے میں نہ صرف چوکنا رہنا چاہیے بلکہ انہیں بالائے تنقید بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔صرف اور صرف یونہی ہم اس آدرش کو بلاخطر اپنا سکتے ہیں کہ صداقت کسی بھی قسم کی انسانی ’’اتھارٹی‘‘ یعنی حاکمیت و استبداد سے بالاتر ہے۔
ذرائع علم سے متعلق ایک اور حقیقت بھی بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ ’’ اوہام و اساطیر‘‘ اور’’ تجربی و انتاجی ‘‘ دائرہ ہائے فکر ایک دوسرے سے متضاد کھڑے ہیں۔اس سرحد کے ایک جانب موجود فکری رویے اول الذکر کی فرسودگی، قدامت پسندی یا عدم افادیت کے قائل ہیں لہٰذا یہ اختلاف قائم ہے۔
یہاں ہمیں کارل پاپر کے اس اہم نکتے کو بالخصوص ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ لفظی و اصطلاحی مناقشت سے ہر صورت پرہیز لازم ہے اور درجۂ صراحت کا انتخاب زیرِ بحث مسئلے کی نوعیت سے مشروط ہے۔ساتھ ہی ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ ’’انتقادی فکر‘‘ کے عمل میں لسانی صراحت ایک ا ہم آلہ ہے اور میرے لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ بالخصوص ہمارے جیسی سماجی صورتِ حال میں لسانی صراحت ایک واہمہ ہے ۔استادِ محترم ڈاکٹر ساجد علی صاحب چونکہ پاپر پر ایک تخصیصی اور مستند رائے رکھتے ہیں ، لہٰذا میری ذاتی رائے میں ان کی تلخیص میں پاپر کا اشارہ دراصل اس فکری صورتِ حال کی جانب ہے جہاں اہلِ فلسفہ نفسِ مسئلہ کو چھوڑ کر زبان و بیان کی وادیوں میں گھومنے پھر نے میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف شاید ایک ایسی سماجی صورتِ حال میں لسانی صراحت ناگزیر ہے ،جہاں نہ صرف تفلسف کی موت واقع ہوئے زمانہ گزر چکا ہو بلکہ پیچیدہ مسائل پر مبنی طویل مباحثے کو وقت کا ضیاع مانا جاتاہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر انتقادی فکر خود کو کسی مخصوص تناظر کے ساتھ مشروط نہ کرے تو اپنی عمومی حیثیت میں دراصل تفلسف ہی ہے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس قسم کے دو جہتی عملی تفلسف کی ضرورت ہے، جو ایک طرف تو فرد کی نفسیاتی تحلیل کا کام کرے اور دوسری جانب یہ ثابت کر سکے کہ وہ فکری سرحدیں سراسر مصنوعی اور غیر اہم ہیں جہاں فکر فوری طور پر کسی سماجی نظریہ بندی کو سامنے نہیں لاتی، نہ ہی کسی بھی قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی تعبیرات کے ذریعے فرد کی فکری یا عملی آزادی پر حدود وقیود لازم آتی ہیں۔
یہاں فوری نوعیت کا ایک ضمنی مسئلہ یہ ہے کہ میری رائے میں تفلسف کا عمل فکری کتھارسس کا عمل ہے۔ یہ جوابوں کی امید ترک کرتے ہوئے سوال اٹھانے اور ان کو بنانے سنوارنے کا عمل ہے۔میری رائے میں تبلیغ و اصلاح اور اپنے خارج میں کسی ایسی واضح فکر کی تشہیر کا عمل قطعی غیردلچسپ سرگرمی ہے جو علم کے ذرائع کو حتمی مان کر آگے بڑھے۔اس سے کہیں زیادہ ضرورت ایک ایسے داخلی کتھارسس کی ہے جو اپنے ہی سامنے مسلسل سوال رکھتے ہوئے، نہایت سست رفتاری سے ایک فطری وضاحت کی منزل کی جانب بڑھے۔لیکن بہر طور یہ ایک پیچیدہ سرگرمی ہے جس میں قارئین کو شریک کرنے کا مطلب خندہ پیشانی سے تنقید کو قبول کرنا ہے۔بظاہر اپنی پریشان خیالی اور داخلی کشمکش کے عمل کو خارج میں لا پھینکنا ایک بے مقصد سی سرگرمی معلوم ہوتا ہے، لیکن مشاہدے اور تجربے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بظاہر بے مقصد سرگرمی کئی ایسے پوشیدہ امکانات رکھتی ہے جن کے بارے میں قبل از وقت قیاس آرائی خود ان امکانات سے سمجھوتے کے مترادف ہے۔
میری رائے میں human suffering کا مسئلہ اپنی بنیادی تفہیم کی خاطر سوال وضع کرنے کے لئے دو ناگزیر خاکوں کا محتاج ہے۔ان دو خاکوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد اپنے اپنے مخصوص تناظر میں سوالوں کی وضع قطع اور مخالف یا متبادل تناظر میں سوالوں پر تنقید کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے۔
ان میں پہلا خاکہ انسان اور کائنات کے وجودی حقائق سے متعلق تین دنیاؤں کا خاکہ ہے۔ پہلی دنیا طبعی دنیا ہے۔ اس دنیا کے حقائق مادے اور توانائی سے مل کر بنے ہیں۔ دوسری دنیا ذہنی یا نفسیاتی دنیا ہے جس کے تمام حقائق کا تعلق احساس کے منطقے سے ہے۔تیسری دنیا ان حقائق پر مشتمل ہے جو یا تو محض دوسری دنیا میں ہونے والے تخلیقی عمل یا پھر اس تخلیقی عمل کے پہلی دنیا پر اطلاق کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ ان تینوں دنیاؤں کے درمیان مختلف سطحوں پر لین دین اور آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ہم نہ صرف ان دنیاؤں کی ماہیت اور اس آمدورفت کا تجزیہ کر سکتے ہیں بلکہ ان کے درمیان سرحدی ابہامات پر مشتمل سوالات بھی اٹھا سکتے ہیں۔بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ان سوالات کی تاریخ ہی دراصل کُل انسانی فکر کی تاریخ ہے۔ دوسری دنیا کے ذہنی و نفسیاتی رجحانات اور احساسات و خواہشات کچھ ایسی ترجیحات کو لازم کرتے ہیں جو تیسری دنیا میں تخلیقی عمل کے ذریعے پہلی دنیا میں تبدیلیاں لاتی ہیں۔میں انجینئرنگ کی زبان میں اس مکمل آمدورفت کو ایک complex feedback process کے طورپر دیکھتا ہوں۔
میری رائے میں ہمارے درمیان بہت سے اختلافات لسانی صراحت کی وجہ سے نہیں بلکہ لسانی صراحت نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔ پاپر جس ثقافت کی بات کر رہا ہے وہ ایک علمی و تنقیدی ثقافت ہے جب کہ یہاں تو پہلے ہی سے ایک تنقیدی خلا واقع ہو چکا ہے۔ گوہر تاج صاحبہ درست فرماتی ہیں کہ ہمیں یہ منظرنامہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ خوشگوار تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب کارل پاپر کی ان تین دنیاؤں کے خاکے کو سامنے رکھتے ہوئے نت نئے سوالات اٹھانے کی کوشش کی جائے۔شاید آپ دیکھ سکتےہیں کہ نظریۂ علم ، نظریۂ اخلاق اورہست و نیست سے متعلقہ اختلافی سوالات ان تینوں دنیاؤں کو پھیلانے اور سکیڑنے کا نتیجہ ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان تینوں دنیاؤں میں پھنسے انسان کوبیک وقت دو محاذوں پر لڑتا دیکھتا ہوں۔ ان میں سے ایک محاذ معروضیت و موضوعیت کی لڑائی کا ہے جہاں بدقسمتی سے معروضیت کو ایک قدر مان کر اس پر اپنا حق جتانا لازمی ٹھہرا ہے۔استبداد پر مبنی مذہبی یا غیرمذہبی تعبیرات اس لڑائی کا فیصلہ طاقت کے زور پر کرنے کے لئے سند الہامی متون یا نسل پرست اور وطن پرست نظریات سے لاتی ہیں۔دوسرا محاذ تجریدیت اور غیرتجریدیت کا ہے۔ تجریدیت سے میری مراد وہ مجرد اقالیم ہیں جہاں خیال بلاواسطہ یا بالواسطہ مادے پر یوں اثرانداز ہوتا ہے کہ تبدیلیاں صرف تیسری دنیا میں نظر آتی ہیں۔ یہاں سائنسی و سماجی و سیاسی نظریات بھی شامل ہیں اور ایجادات بھی۔میرے لئے اس دنیا کی پراسراریت ایک طلسمی کیفیت رکھتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ فسوں ربائی (disenchantment)کا عمل تو مسلسل جاری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر ہر زمانے کا طلسم خود کو عقل و استدلال کے ذریعے معقول بھی گردانتا آیا ہے۔ اس لئے اوہام و اساطیر اور شعرو الہام کی دنیا میرے لئے اتنی ہی ’’علمی‘‘ کشش رکھتی ہے جتنی ریاضی اور سائنس کی۔ میری رائے میں اس منظرنامے کو اگر محض افادیت تک محدود کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو شاید پہلی دنیا یعنی مادے کی دنیا کے حقائق اپنی اصلی صورت میں باقی رہیں گے لیکن دوسری دنیا یعنی احساسات کی دنیا کے حقائق نہ صرف مسخ بلکہ ان کی تفہیم کے امکانات بھی محدود ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت کی سب سے مجرد سمانہ کاری عدد کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے۔یوں عدد کا مسئلہ ایک ایسا دیومالائی مسئلہ ہے جس کی سرّیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہو رہا ہے۔
دوسرا خاکہ صرف اور صرف دوسری دنیا سے متعلق ہے۔اس دنیا میں human suffering ایک بنیادی حقیقت ہے۔ میں اسے انسان کی اذیت، تکلیف یا درد وکرب کا نام دے کر محدود کرنے میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اپنی ان تمام کیفیاتی صورتوں میں یہ مسئلہ ہماری اس قسم کی فوری توجہ کا مستحق ہے جسے عرفِ عام میں انسان دوستی، ہمدردی یا عبادت کہا جا سکتا ہے۔یعنی چونکہ ان تمام صورتوں میں اس کا حل موجود ہے لہٰذا یہ کچھ ایسی دلچسپی کا معاملہ نہیں جس کے لئے نظریہ بندی کی ضرورت ہو۔ جیسا کہ محترمہ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کہا، یہ مسئلہ تو صرف empathy کا مطالبہ کرتا ہے جس کے لئے ارادے، کوشش اور عمل کی ضرورت ہے۔لیکن دراصل human suffering کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ میں اسے ’’کربِ حیات‘‘ یا ’’کربِ ہستی‘‘ کی اصطلاح کا جامہ پہنانا چاہوں گا۔ یہ قدیم مسئلہ ہمیشہ ہی سے دوسری دنیا کے حقائق کا تجزیہ کرنے والے اہل فلسفہ و ادب اور انبیاء و صالحین کا موضوع رہا ہے۔اورآج یہ مسئلہ سائنسدانوں کا مسئلہ بھی ہے۔ نطشے کی تاریخ ِ المیہ ہو ، شیکسپئیر کی ٹریجڈی یا غالب کی فریاد کہ’’یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے‘‘، کسی نہ کسی طرح المیہ کا موضوع انسانی نظریہ بندی کے لئے اپنی کشش قائم رکھے ہوئے ہے۔ عیسائی مذہب او رمابعدالطبیعات پر اپنی تنقید میں نطشے اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ انسانی ذہن اس ظاہری دنیا کے پس منظر میں دور کہیں ایک اصلی اور صداقت پر مبنی دنیا کی خواہش رکھتا ہے۔
لازمی ہے کہ دوسرے خاکے پر مبنی اس مسئلے پر ضرورت سے زیادہ غور کرنے والا انسان کبھی تو خود کو سارتر کے ناول ’’متلی‘‘ کے مرکزی کردار کے طور پر پائے گا اور کبھی ہسپانوی شاعر اونامونو کے خیالات سے متفق کہ شاید شعور ایک تحفہ نہیں بلکہ ایک بیماری ہے ۔ وہ لازماً اس مخمصے میں گرفتار ہو گا کہ
’’اگر یہ سچ ہے کہ میں مکمل طور پر مر جاؤں گا تو میرے فنا ہوتے ہی ، جہاں تک میرا تعلق ہے، کائنات بھی فنا ہو جائے گی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اسی وقت فنا نہیں ہو جاتی تاکہ کوئی بھی نیا شعور اس تقدیر کے ساتھ وجود میں نہ آئے کہ اس نے ایک ہستی کے ایک ظاہری اور سریع الزوال کرب ناک سراب کو سہنا ہے؟ اگر زندہ ہستی کا سراب جو محض زندگی کی خاطر یا دوسرے مائل بہ فنا انسانوں کی خاطر زندہ رہنے والے ہی کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیتا ہے،اور روح کو اطمینان نہیں بخش سکتا تو پھر زندہ رہنے کا فائدہ ہی کیاہے؟ہمارا بہترین علاج موت ہے۔ موت کی دہشت ہی وہ وجہ ہے کہ ہم اس ابدی قرار کی تعریفوں کے لئے حمدیہ ترانے پڑھتے نہیں تھکتے اوربار بار موت کے ذریعے آزادی کا ذکر کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ مگیل ڈی اونامونو،’حیاتِ انسانی کی المیہ جہت‘ (The Tragic Sense of Life)، مترجم:جے ای کرافورڈ فلچ، ڈوور پبلیکیشنز، نیویارک، ۱۹۵۴، ص۴۱)
بنیادی سوال یہ ہے کہ ان سوالات پر کتنا غوروفکر’’ ضرورت سے زائد‘‘ غوروفکر ہے اور آخر اس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ میری رائے میں یہی وہ سوال ہے جو ایک افادیت پسند تناظر کے مطابق ترجیح کا تقاضہ کرتا ہے۔میں تسلیم کرتاہوں کہ میرے افادیت پسند تناظر میں(دئیے گئے خاکے کے مطابق) دوسری دنیا کی اہمیت دو چند ہے کیوں کہ ایک جانب تو یہ احساس و خیال کا جہان ہے اور دوسری جانب یہ تیسری دنیا کو وجود میں لانے کے لئے لازم ہے۔ میرے لئے یہ ایک قدیم اساطیری پس منظر رکھنے والا منظرنامہ ہے جہاں جبلت اور شعور کے مابین ایک ایسی کشمکش برپا رہتی ہے جو تفصیلی تصور سازی کی محتاج ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہم بطور آرٹسٹ یا سائنسدان فطرت کے سب سے پیچیدہ مظہر یعنی خود انسان کے فہم میں کامیاب ہو سکیں گے؟
کیا ہم اس فہم کی جانب پیش قدمی کے لئے یہ مفروضہ قائم کرنے سے ہی قاصر ہیں کہ ہم معدوم ہو جائیں گے اور اس طور فراموش کر دئیے جائیں گے کہ کائنات میں ہماری یاد کی ایک رمق میں بھی باقی نہ رہے گی؟
میری رائے میں الہام و آثار کے ستونوں پر کھڑی مذہبی روایت کے پاس بھی اس المیہ احساس کا کوئی ایسا تسلی بخش جواب نہیں جو کربِ حیات کا مسئلہ فیصلہ کن طور پر حل کر دے۔ شاید مذہبی تعبیر تو کبھی کربِ حیات کی بحث کو سماجی میدان میں چھیڑنے کے قابل ہی نہیں ہو سکی۔
کیا مجھے میں پورے یقین سے اس دیومالائی شک میں مبتلا رہنا چاہئے کہ خدا مجھے معدوم ہونے سے بچا لے گا؟