تحریر: عامر ظَہر (ترجمہ: عاصم بخشی)
اسرائیل، کیا تم دیکھ نہیں رہے کیا ہو رہا ہے؟ میں جیت گیا ہوں۔ کھیل ختم ہو چکا ہے۔
ساری دنیا میرے حق میں مظاہرے کر رہی ہے۔ تمہارے لئے کوئی بھی نہیں۔ یہ واضح ہے۔ پچھلے ہفتے، پانچ دنوں کے وقفے سے میں نے ڈیٹرائیٹ میں ایک ہزار لوگوں پر مشتمل دو مظاہروں میں شرکت کی۔ آج شکاگو کی گلیوں میں پانچ ہزار افراد تمہا را نام پکار رہے تھے۔ یاد ہے جب شکاگو تمہاری مٹھی میں تھا؟ اب یہ سب ماضی کا حصہ ہے۔ لندن میں تمہارے خلاف پندرہ ہزار لوگوں نے پیش قدمی کی۔ اور یہ صرف ہم ہی نہیں تھے۔ ان میں سفید فام بھی تھے، اور سیاہ بھی۔۔۔یہاں تک کہ یہودی بھی! کیا تم یہ مانو گے؟ نیویارک، سان فرانسسکو، برلن، میڈرڈ۔۔۔ہر جگہ۔ جوہانسبرگ، ڈربن اور کیپ ٹاؤن میں تو وہ دس ہزار سے بھی کئی گنا کی تعداد میں نکلے۔ ہاں ایسا ہی ہے، میں جنوبی افریقہ ہی کی بات کر رہا ہوں۔ اور یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں۔
پوری دنیا میں دس لاکھ سے بھی زیادہ افراد، اور ہم نے انہیں کسی بات کے لئے رشوت نہیں دی۔ ہم نے انہیں بالکل نہیں اکسایا۔ ہم نے انہیں نہیں دھمکایا۔ وہ اپنی مرضی سے ہم سے آن ملے۔ میرا گمان ہے کہ تم شاید یہ کہو کہ وہ غلطی پر ہیں اور گمراہ ہیں۔ مگر اس بات کو اب کوئی تسلیم نہیں کر رہا۔ وہ دن گزر چکے ہیں۔
یہ یقیناً دہشت زدہ کر دینے والی صورتحال ہے۔ یہ چھیاسٹھ برس کی کھلی چھوٹ تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔اب حالات کبھی پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
مگر پریشان ہرگز نہ ہو، میں یہاں تمہارے لیے موجود ہوں۔ تم مانو یا نہ مانو ، تمہاری نجات کی کنجی میں ہوں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ تمہیں اپنے آپ کو مجھ سے سیکھنے کے لئے آمادہ کرنا ہو گا، کیو نکہ، جیسا کہ بالکل واضح ہو چکا ہے، میں دنیا کو اپنی پسندیدگی کی طرف مائل کرنے میں تم سے بہتر ہوں۔
تمیں معلوم ہے میں نے یہ کیسے کیا؟
میں گھامڑ پن سے کام نہیں لیا۔ یقیناً مجھ سے غلطیاں ہوئیں، بلکہ بہت سی غلطیاں۔ مگر میں گھامڑ ہرگز نہیں تھا۔ دراصل، جیسا کہ مجھے معلوم ہوا، جب تک کوئی گھامڑ نہ ہو لوگ اسے کافی حد تک برداشت کرتے ہیں۔
مگر تم تو پرانے گھامڑ ہو۔ کسی کو تو یہ بات تمہیں آسان لفظوں میں سمجھانی ہے۔ اور مجھ سے بہتر تمہیں کوئی نہیں جانتا۔ آؤ تم سے تمہارے پاگل پن کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔
ایک نوخیز بچے کو اپنی طرف پتھر پھینکنے پر ایم۔16 سے گولی ماردینا ۔ پاگل پن۔
اپنے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے ، جنہیں تم آسانی سے کسی اور جگہ آباد کر سکتے تھے، گاؤں کے گاؤں تہہ و بالا کر دینا۔ صریح پاگل پن۔
کوئی بھی گناہ کر کے اپنے بڑے، امیر اور طاقتور دوست کی آڑ میں چھپ جانا۔ پاگل پن اور کسی حد تک افسوسناک۔
حُمُص اور فلافل کا اسرائیلی کھاجا ہونے کا دعویٰ۔ اب جانے بھی دو۔ اس سے زیادہ پاگل پن اور کیا ہو گا۔
غیرعسکری علاقوں میں ہوا سے کاغذی اشتہارات پھینکنا کہ ’’تم لوگوں پر دو دنوں میں حملہ کر دیا جائے گا‘‘، اور پھر جب وہ اپنا گھر نہ چھوڑیں تو ان کا قتلِ عام۔۔۔ایک سیدھی سادھی کمینگی اور قتل کے علاوہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو شاید کوئی شدید پاگل ہی کر سکتا ہے۔
کیا تم نہیں جانتے کہ دھمکیوں کو اگر صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر استعمال کیا جائے توبہت زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہیں، نہ کہ اس وقت جب واقعتاً ان پر عمل درآمد کیا جائے؟ ایران نے اس میں درجۂ کمال حاصل کر دکھایا ہے۔اسی طرح امریکہ نے۔ اور یہ عربی ماؤں سے بہتر تو کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
چلتے چلتے مجھے غزہ میں پھینکے گئے آگاہی مہم کا حصہ ان اشتہارات کے بارے میں ایک دو مزید باتیں کرنا ہیں۔اول یہ کہ اگر تم ان سب کو قتل ہی کر دو گے تو وہ تمہاری دھمکیوں سے کس طرح سیکھیں گے؟ کیا تم نے یہ کبھی نہیں سوچا؟ دوم، یہ سارا قضیہ کہ انہیں ’’پہلے ہی سے آگاہ ‘‘کر دیا گیا تھا تمہیں ہرگز کم گھامڑ ثابت نہیں کرتا۔ اطلاعاً عرض ہے۔
بہرحال تمہیں اپنے سارے معاملے کو میرے ساتھ دہرانا چاہیے، اس سے پہلے کہ تم واقعی اس پر عمل پیرا ہو ۔ میں بہت اچھی طرح جانتاہوں کہ دنیا تمہارے اور ان معاملات کے بارے میں کس طرح سوچتی ہے۔ میں کوئی شوخ اور مغرور بانکا بننے کی کوشش بالکل نہیں کر رہا۔ یقیناً قتل کرنا تم مجھ سے کہیں بہتر جانتے ہو۔ مگر جہاں تک باقی تمام معاملات کا سوال ہے، میں تم سے آگے ہوں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ میں کوئی گھامڑ نہیں ہوں۔
تمہارا مخلص فلسطینی دوست عامر
پسِ تحریر: عامر ظَہر ایک فلسطینی نژاد امریکی طربیہ نگار اور تماشاگر ہیں۔ وہ فلسطینی مہاجرین کی اولاد ہونے کی ناطے اپنے بچپن کے تجربات کے استعمال سے ثقافت، سیاست، تاریخ اور روزمرہ زندگی میں مزاح کے پہلو تلاش کرتے ہیں۔ ان کی تحاریر ان کے بلاگ سِول عرب پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ اس تحریر کی اصل کے مطالعے کے لیے یہاں کلک کریں۔