پدرسری مذہبی روایت میں توازن کی تلاش

ان تمام مذہبی روایتوں میں جہاں الہامی متون کو مرکزیت حاصل ہو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ خدائی ارادہ کسی نہ کسی طرح متن سے جڑا ہے۔ یہاں یہ مفروضہ ثابت ہے کہ خدا متن کے ذریعے فرد سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے اور خارج سے اس پر ظاہر ہو کر کچھ داخلی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔فرد کی نفسیات اور زمانی و مکانی عوامل فہم پر کسی نہ کسی درجے میں اثرانداز ہوتے ہیں لہٰذا الہامی متون کی تعبیر میں ایک ناگزیر تنوع پیدا ہونا یقینی ہے۔فردچونکہ سماج کی بنیادی اکائی ہے لہٰذا پہلے سماج اور پھر مختلف سماجی دھاروں میں بٹی تہذیب و ثقافت کے اندر مذہبی روایات ایک نہایت غیرمحسوس طریقے سے تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ متن کے اس مسلسل تغیراتی سفر کا بغور مشاہدہ لمحہ موجود میں ناممکن ہوتا ہے۔ یہ سماج کی کچھ ایسی مجموعی یاداشتیں ہوتی ہیں جنہیں کسی بھی معاشرے میں کچھ افراد اپنے ذاتی رجحاتات کی بنیاد پر تاریخ کا حصہ بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ لیکن یہ یاداشتیں کبھی بھی متن کے تعبیراتی تغیرات کی مکمل تصویر نہیں ہوتیں بلکہ اس تصویر کی ایک نامکمل شبیہہ ہوتی ہیں۔

دوسری طرف فرد اپنے آپ کو یہ ناگزیر مفروضہ قائم کرنے پر مجبور پاتا ہے کہ تاریخ کا دھارا خدائی اختیار میں ہے اور خدا اپنی مشیت کے مطابق اس دھارے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے لئے آزاد ہے بلکہ اپنے پیچیدہ میلانات کی بنیاد پر لمحہ لمحہ ایسا کرتا ہے۔ یہ میلانات پیچیدہ اس لئے ہوتے ہیں کہ خدا ان کو صرف کچھ علامات کے ذریعے ہی آشکار کرتا ہے جو بہرحال اسی متن میں موجود ہوتی ہیں جس کی تعبیر پھر فرد ہی کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ اس صورت میں یہ ایک ایسا دائروی خاکہ ہے جس میں سماج متن سے اس طرح مسلسل برسرِ پیکار ہے کہ اس کی نفسیات متن کو کسی نہ کسی حد تک ساکت تصور کرنے پر بھی مجبور ہے، لیکن تعبیر کے ذریعے متن کو پھیلانے اور سکیڑنے کا عمل بھی جاری رکھے ہے۔

یہاں دو اضافی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں اول اور سب سے دلچسپ پیچیدگی متن کو اپنی مکمل آفاقیت کے ساتھ زمان و مکاں پر اس طرح قابلِ اطلاق سمجھنے کی ہے کہ متن کی تعبیر کو کہیں ماضی کے تصوراتی دور میں منجمد سمجھنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تعبیر بہرحال سماج میں موجود کوئی عملی مظہر ہی ہوتی ہے لہٰذا اگر بغور دیکھئے تو کیا یہ واضح نہیں کہ یہ دعوی کرنے والا انسان خود تصورِ انسان اور سماج کو ہی تاریخ میں منجمد سمجھ رہا ہوتاہے؟ لہٰذا یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ سماج کی رگوں میں مذہب نظری طور پر کوئی بالکل بے معنی اکائی بن کر رہ گیا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سماج کا ایک غالب حصہ مذہبی تعبیر کو خارج سے اپنے ہی اوپر وارد ہو تا دیکھ رہا ہے۔ ان حالت میں سماج ہر لمحہ ان گنت عوامل کی بنیاد پر تبدیلی کے عمل سے تو گزر رہا ہے لیکن اپنی تعبیر کو کہیں ماضی میں منجمد تصور کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی بنیادوں میں لسانیات کا ایک مسئلہ ہے کیوں کہ یہاں متن کا ایک ایسا تصور قائم کیا جا رہا ہے جس میں کلام عمرانیاتی کشمکش کے باعث معنی ظاہر نہیں کر رہا بلکہ معنی اپنی پوری کاملیت میں ماورائے زمان و مکان اٹل تصور کئے جا رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج کلی طور پر الہامی متون کی تعبیرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مخصوص ترجیحات کی بنیاد پر سفر جاری رکھتا ہے۔ ایسے میں مذہبی متون چونکہ تہذیب میں اپنا مثبت کردار کھو بیٹھتے ہیں لہٰذا ان کا واحد مقصد مبلغین کے ذریعے سماج کو احساسِ جرم پر مائل کرنا ہی رہ جاتا ہے۔

دوسری دلچسپ جہت کسی مخصوص تصورِ سماج پر اصرار ہے۔ یہاں عمومی طور پر ایسے مفروضے دیکھنے میں آتے ہیں جہاں مکمل خاندان اور اس کے اندرموجود مختلف اکائیوں جیسے عورت، مرد اور والدین وغیرہ کے لئے کسی بھی درجے میں کچھ اٹل تصورات کو قائم کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تصورات بھی تعبیرِ متن ہی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں لہٰذا عمومی طور پر مفروضہ یہ قائم کیا جاتا ہے کہ خدائی ارادے نے انہیں پہلے سے قائم شدہ کچھ سماجی حقائق تسلیم کرتے ہوئے کچھ ناگزیر ضابطوں میں قید نہیں کیا بلکہ خود اپنی اصل میں ان تصورات کو بامعنی ماننے کے لئے بھی سماج خدا کا محتاج تھا۔ تعبیر کا عمل کم از کم اس حد تک ایک پیچیدہ عمل ہے کہ انسان کو متن سے ایک مسلسل تعلق میں باندھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔جب یہ تعلق سماجی بنیادوں پر بامعنی تصور کیا جاتا ہے تو ایک سیاسی عمل کے طور پر سامنے آتا ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں ایک سماجی خاکہ متصور کرنے والے طبقات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یوں تعبیر کی جنگ ایک طبقاتی جنگ بن جاتی ہے۔

اب اس تناظر میں اگر ہم مذہب ِ اسلام میں عورت و مرد کے باہمی تعلقات اور پھر اس سے جنم لیتے تصورِ خاندان کے ضمن میں اپنے سماج کا ایک سرسری سا جائزہ لیں تو بہت ہی کم مستثنیات کے ساتھ ایک بہت واضح تعبیری خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ تعبیری خاکہ اسلام کو ایک قدیم سرقبیلی روایت کے طور پر مان کر ہی آگے بڑھتا ہے جہاں داخلی کشمکش کے بعد پھر تعبیر کے عمل کے ذریعے ہی کچھ سمجھوتے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ روایتی تعبیرات ایک ایسی عورت کا تصور سامنے لاتی ہیں جو وجودی اعتبار سے مرد کے لئے تخلیق کی گئی ہے اور مرد کی نسبت سے ہی خاندانی اکائی کے طور پر متعارف ہوتی ہے۔ اس کی وجودی ناگزیریت مرد کے اطمینان ، خوشی اور جنسی تسکین کے ذریعے معقول ٹھہرتی ہے اور مرد کے بغیر اپنے معنی میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ہم فی الوقت ان تعبیرات کی قدری حیثیت میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ انہی متون میں ان کے مقابل یا ان کو توازن فراہم کرتی تعبیرات اور حوالے ایک سرقبیلی سماج کی نفسیات اور متن کی کشمکش کے بعد پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ سماجی یاداشت میں فوری حوالے کے طو ر پر محو ہو جاتے ہیں۔ یہ سرقبیلی سماج کی نفسیات ہی ہے کہ جہاں ہمارے مرد مبلغین خاص طور پر ان حوالوں کو منتخب کرتے ہیں جہاں عورت سے جنسی لذت پانے، اس دنیا میں اسے ضرورت سے زیادہ ’استعمال‘ نہ کرنے اور اگلے جہان میں اس کو ’انعام‘ کے طور پر پانے کا ذکر ہوتا ہے وہیں خواتین مبلغین عورت کو بستر میں مرد کی ’طلب‘ کی تقدیس اور اس کو اپنا مجازی خدا تسلیم کرنے پرابھارتی نظر آتی ہیں۔اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مرد کے جنسی محرکات کی نسبت سے عورت کے جسمانی اظہار کو مختلف تعبیرات کے ذریعے سماج میں جنسی افراتفری کا ایک بنیادی محرک مانا جاتا ہے جس پر پابندی کی ضرورت لازم سمجھی جاتی ہے۔

یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ ان تعبیرات پر وارد ہونے والا کوئی بھی تعبیراتی اعتراض جو کسی متبادل حوالے کو اپنی بنیاد بنائے فوراً ایک ایسے ردعمل کو دعوت دیتا ہے جو متن کی حدود سے نکلتا ہے اور کچھ ایسے اضافی حوالوں سے مدد لیتا ہے جو کچھ تاریخی، سماجی یا اخلاقی مفروضوں پر استوار ہوتے ہیں۔ مثلاً ان استبدادی یا انتخابی تعبیرات کو ابھارتے اور ان کے مقابل موجود متبادل تعبیرات کو پسِ پشت ڈالتے مبلغین فوراً کچھ ایسے کلیشے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اسلام نے تو عورت کو ظلم و ستم سے آزادی دلائی اور سماج میں محترم مقام دیا،وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان کلیشوں میں یقیناً صداقت ہے لیکن یہاں ان میں موجودآزادی اور خیر کے اصولوں کا اطلاق ہمارے مخصوص سماجی منظرنامے میں ظلم کا شکار عورت کو آزادی دلانے کی بجائے محض اپنی استبدادی تعبیرات کا ایک دفاعی ڈھکوسلا ہوتا ہے۔

ایسے میں جہا ں ہمیں پھکڑ بازی کرتے اور آوازے کستے مذہبی اور سیاسی علما کا دوغلا پن آشکار کرنے کی ضرورت ہے وہیں مذہبی تعبیر کو ایک مخصوص طبقہ علما کے چنگل سے نکال کر واپس عوامی دائرہ کار میں لانے کی ضرورت بھی ہے۔اس کی بنیادی وجہ صرف بدلتی ہوئی سماجی صورتِ حال نہیں بلکہ خود طبقہ علما کا فکری بانجھ پن بھی ہے۔ سماج اپنے رویوں سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ تاریخ کا عمل کے ذریعے ان تمام استبدادی تعبیرات کو مسترد کر رہا ہے جو فرد کو کسی نہ کسی طرح ان طبقات کے تابع کرنا چاہتی ہیں جن کی مذہبی متون پر حکومت ہے۔ہمیں یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کہ کیا اسلامی روایت اپنی کاملیت کے ساتھ ایک قدیم سرقبیلی سماج ہی کو متصور کرتی ہے یا اسے ایک ایسا جدید سماج بھی قابلِ قبول ہے جہاں مرد اور عورت اپنی اپنی متنوع انفرادی ترجیحات کی بنیاد پر خاندان کی تشکیل کے عمل اور اس میں حفظِ مراتب قائم کرنے کے لئے آزاد ہوں؟ اس تناظر میں اسلامی روایت کے اندر کونسے تعبیری آلات اور تکنیکی مال مسالہ موجود ہے جسے ایک عام تعلیم یافتہ شخص بھی بخوبی سمجھ سکے اور طبقہ علما کے سامنے کچھ بامعنی سوالات رکھ سکے؟ کیا الہامی متون کی تعبیرات کسی ایک مخصوص سماج ہی کو تصور کرتی ہیں جو تاریخ میں کسی ایک زمانی ومکانی دائرے میں منجمد ہے اور دریافت کیا جا سکتا ہے یا پھرمذہبی تعبیر کا عمل خود ایک تہذیبی تعامل ہی کا نتیجہ ہے اور ایک مسلسل عمل کے ذریعے اپنے خاکے میں نئے رنگ بھرتا رہتا ہے؟ کیا متن کی تعبیر کا عمل یک جہتی ہے یا متن میں ملفوظ ارادہ خدا بہرحال اپنی تفہیم کے لئے فرد کی توجہ کا متقاضی ہے؟ دوسرے لفظ میں کیاالہامی متون کی تعبیرات خارج سے سماج پر جبری نفاذ کے لئے ہیں یا فرد کو اس پر اس طرح قائل کرنا ضروری ہے کہ جبر کسی کم سے کم درجے میں معقول ٹھہرے؟ مذہب پسند طبقات کو عوامی دائرہ کار میں ان سوالوں کے جواب واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر فرد یہ فیصلہ کر نے میں آزاد ہو کہ مذہب اپنی رائج تعبیرات کے ساتھ اس کی زندگی میں کتنا بامعنی ہے اور اسے کسی ڈر ، خوف اور اخلاقی و روحانی فاشزم کے بغیر اس کے بے معنی حصے کو مسترد یا نظر انداز کر کے جینے کا حق دیا جائے۔

جب ہم مذہبی تعبیر کے عمل کو عوامی دائرہ کار میں لانے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد مذہبی تعبیر پر سماج کے ہر فرد کے اختیار کے بنیادی انسانی حق کی بازیابی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مذہبِ اسلام کی حد تک یہ حق اسے خود خدا دیتا ہے۔ فرد اگر اپنے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے اسے طبقہ علما کے کسی بھی قابلِ اعتماد رکن کے حوالے کرنا چاہے تو ظاہر ہے کہ یہ اس کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے۔ ہمارے سماج میں یہ بات واضح ہو چکی ہے اب یہ کشمکش مذہبی تعبیرات پر حکومت کرنے والے طبقات اور ایک ایسے فرد کے درمیان ہے جو اب اپنے آپ کو نہ تو کوئی بھیڑ بکری سمجھتا ہے اور نہ ہی ان استبدادی طبقات کو کوئی مقدس چرواہا ۔

ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارا سماج ہمیشہ ایسا نہیں تھا اور مذہبی تعبیر کے حوالے سے اہل علم کا مقام نہ صرف محترم بلکہ ناگزیر تھا۔ مذہبی روایت میں شامل افتا و اجتہاد جیسے مختلف فقہی آلات کے ذریعے سماجی تبدیلیوں کو قابل اعتنا مانتے ہوئے کسی حد تک عدم تحفظ کے ساتھ بھی روایت ایک تنوع اور تسلسل سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس تناظر میں جمود کے الزامات جہاں اپنی جگہ کچھ سچائیاں رکھتے ہیں وہیں ان کی درست تفہیم میں کئی خلا بھی پائے جاتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند سے روایت کے اس حرکیاتی عنصر کی ان گنت مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور یہ ہمارے ہاں کے ہر فقہی منہج میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 1931ءمیں تختِ برطانیہ کی عدالت میں پیش ہونے والے ایک قضئیے کے لئے مولانا اشرف علی تھانوی سے فقہی رائے کی درخواست کی گئی جہاں مدعی علیحدگی کے بعد اپنی بیوی سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند تھا لیکن عورت کے اہلِ خانہ کا مطالبہ تھا کہ ان کی بچی اپنا مذہب تبدیل کر چکی ہے اور اب گھر واپس نہیں لوٹ سکتی۔مولانا تھانوی کا فیصلہ تھا کہ ’کفر نکاح کو فسخ کر دیتا ہے اور مدعی کا نکاح ٹوٹ چکا ہے‘۔اگلے سات سال میں کچھ بدلتے ہوئے سیاق و سباق کے ساتھ یہ فتویٰ مولانا تھانوی کے ذریعے ہی دس مختلف موقعوں پر دہرایا گیا۔ تاہم 1931ءمیں یعنی پہلے فتوے کے تقریباً بیس سال بعد مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک مکمل رسالہ تصنیف کیا جس میں علامہ حسکفی یا ابن عابدین کے حنفی متون کی بجائے فقہ مالکی کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی پہلی رائے سے رجوع کیا۔

ڈاکٹر خالد مسعود اپنے انگریزی مقالے Apostasy and Judicial Separation in British India میں ان دونوں فتاویٰ یعنی اصل اور رجوع کی پیچیدگیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے 1920ءسے 1930ءکی دہائی میں برٹش انڈیا میں رونما ہونے والی دلچسپ سماجی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مقالے سے معلوم ہوتا ہے عدالتوں میں دس سال کے اندر طلاق کی درخواستوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بہت سی خواتین نے اپنی ناخوشگوار شادیوں سے چھٹکارے کے لئے عیسائی ہونے کو ترجیح دی اور بپتسمہ کی کلیسائی سند دکھا کر عدالت سے نکاح فسخ کرانے کا حکم نامہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود کے بقول یہ واقعات اتنے عام تھے کہ علامہ اقبال اور کئی دوسرے مسلمان اہلِ علم نے اس مخصوص مسئلے میں حنفی فقہ پراعتراضات اٹھاتے ہوئے مفتیانِ کرام کو اجتہاد کے لئے ابھارا۔ یہ تمام مجموعی کاوشیں بالآخر 1931ءکے فتوے کا باعث بنیں جہاں عدالتوں کو خاوند کی جنسی ناقابلیت، ظلم و جبر یا معاشی مجبوریوں کے باعث نان و نفقہ فراہم نہ کر سکنے کے باعث نکاح ختم کرنے کی اجازت دی گئی جو پہلے صرف ارتداد کی واحد صورت میں ہی موجود تھی۔

اس مثال کو پس منظر میں رکھا جائے تو کم از کم تین اہم جہتوں سے سماج اور مذہب کے درمیان کشمکش کی ماہیت پر روشنی پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ جب ہم سماج اور مذہب کے درمیان کشمکش کی بات کرتے ہیں تو مذہب کو ایک سماجی زمرے کے طور پر ہی فرض کرتے ہیں جہاں کسی نہ کسی حد تک طبقہ علما سے قبولیت کے بعد ہی مذہبی تعبیر فرد کے معاملات پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی جہت فرد کے فوری مفاد یا مذہبی تعبیر کے درمیان انتخاب کا مسئلہ ہے۔ طبقہ علما یقیناً اپنے اندر بھی فکر کا تنوع رکھتا ہے لیکن اپنی تمام تر داخلی کشاکش کے باوجود، کم ازکم سنّی اسلام کی حد تک کسی ایسے نظام مراتب کی صورت میں موجود نہیں جو اپنی جگہ اٹل ہو اور فرد کو اپنی فوری مشکل سے نکالنے کے لئے حرکت میں آئے۔ آج سے سو سال قبل کی اس مثال کو دیکھ کر بھی فوراً اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طبقہ علما کی اولین ترجیح اس وقت بھی مذہبی تعبیر کا دفاع تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ایسے میں اگر کسی مذہبی عالم نے کچھ داخلی و خارجی وجوہات کی بنیاد پر اپنی تعبیر و تفہیم سے رجوع کیا بھی تواسے مذہبی طبقات کے ایک بڑے گروہ سے ہٹ کر ہی ایک راہ بنانی پڑی۔ لیکن اپنے حقیر مطالعے کی بنیاد پر پھر بھی ہماری سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ کم ازکم قرونِ وسطی ٰ کی مسلم فکر میں ایک ایسا حرکیاتی عنصر موجود تھا جو بہرحال مذہبی تعبیر اور انسان دوستی کے ایک خوبصورت توازن میں بندھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہاں ہمیں فکر میں وہ عدم تحفظ اس بڑے پیمانے پر نظر نہیں آتا جو پچھلے دو سو سال سے ہمارے ہاں پایا جاتا ہے اوراب بڑھتے بڑھتے اپنی بدترین حالت میں ہے۔ مثال کے طور پر چودہویں صدی کے اندلس میں ہمیں ابو اسحٰق شاطبی مقاصد شریعہ کو سماجی تناظر میں اس طرح دیکھتے نظر آتے ہیں کہ زمانے اور سماجی حالات کو تعبیر کے ایک اہم متغیرے کے دور پر مکمل تعبیری نظام میں اہم جگہ دینے کے لئے اصول مرتب کرتے نظر آتے ہیں۔ سو سال قبل بھی مولانا تھانوی اپنی رائے میں تبدیلی کے ذریعے ہم جیسے کم علم کو یہی ثابت کرتے نظر آتے ہیں کہ مذہبی تعبیر کا کوئی بھی منہج بہرحال انسان دوستی یا مبنی بر خیر مذہب پسندی کو مقدم رکھتا ہے نہ کہ سماج میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی مذہب کے دعوے داروں کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے ان کی تعبیرات کے جبر کے باعث انسان مذہب بدلنے یا اس کے یکسر انکار کو ترجیح دے؟

دوسری جہت کسی حد تک فلسفیانہ ہے اور اس کا تعلق خود تعبیر کی ماہیت اور انسانی نفسیات ہے۔ یہ مضمون فلسفیانہ موشگافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن یہ ثابت کرنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ مکمل معروضیت کو نظری طور پر بھی تسلیم کر لیا جائے تو تعبیرِ متن او ر متن میں بہرحال ایک ناگزیر فاصلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور جیسا کہ ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں اشارہ کیا کہ کوئی بھی منہجِ تعبیر عملی طور پر اپنے اندر ایک ناگزیر موضوعیت رکھتا ہے۔ بہرحال کچھ لسانیاتی حدوں کو توفرض کر کے ہی آگے بڑھا جاتا ہے لیکن فرد پھر بھی فہم سے ماقبل ایک نیم فہمی حالت میں ہوتا ہے۔ہم اپنے سماج میں اس نفسیات کا مشاہدہ باآسانی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب مفتی نعیم کسی قابلِ احترام خاتون کے لئے ’فاحشہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا مولانا فضل الرحمٰن پنجاب اسمبلی کو ’زن مرید‘ کہتے ہیں تو بہت آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ الہامی متون سے سامنے کے وقت ان کی نفسیات انہیں کس قسم کے تعبیری منہج پر اکسائے گی۔ اس کے برعکس ندوة العلما اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکرم ندوی برصغیر کے سماج میں کسی تازہ تعبیری منہج کی دریافت( یا بازیافت) پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ہمیں پروفیسر ولفرڈ کانٹ ول سمتھ کا وہ مشہور مقولہ یاد آتا ہے کہ ’اگر آپ خود شرح نویسی میں مشغول ہیں، کوئی صوفی پیر ہیں جو اپنے مرید کو ہدایات دے رہا ہے، یا کوئی فقیہہ ہیں جو کسی دقیق قانونی نکتے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہے، یا آکسفورڈ کے کوئی جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہیں جو عصرِ حاضر کی زندگی پر (وحی کی روشنی میں) غور کر رہا ہے، یا پھر بارہویں صدی کے شیرازی سماج کی کوئی بہو بیٹی ہیں، یا بائیں بازو کے کوئی ایسے قائد ہیں جو رائج حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف زنجی غلاموں کی بغاوت کی رہنمائی کر رہا ہے ، تو ان سب صورتوں میں کسی بھی مخصوص قرآنی آیت کی وہی تعبیر ممکنہ طور پر بہترین تعبیر ہو گی جو آپ کے ذہن میں آئے۔‘

بغور دیکھئے تو اوپر دی گئی دونوں جہتیں مذہبی متون کی تعبیر اور طبقہ علما کی موضوعی ترجیحات کو دو مختلف زاویوں سے باہم جکڑتی نظر آتی ہیں۔ پہلا زاویہ سماج میں طبقہ علما اور ان کی متابعت میں موجود مخصوص مذہب پسند طبقات کے ٹوٹتے ہوئے زور کے باعث پیدا ہونے والا اضطراب ہے جہاں اب قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ مولانا تھانوی جیسے اہلِ فکر و نظر کی جگہ اب تختِ تعبیر پر مفتی نعیم اور مولانا فضل الرحمن جیسے قائدین براجمان ہیں ، جن کی انتقادی غیرسنجیدگی ان کی زبان سے ہی ظاہر ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ مسئلہ اپنے اندر کوئی بھی دقیق فقہی پہلو نہیں رکھتا بلکہ پہلے ہی سے از حد بدلے ہوئے سماجی منظر نامے کو، جو مذہبی تعبیر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی رفتار سے گامزن ہے، کچھ قانونی ضوابط میں قید کرنے کا ہے۔ہمیں اس میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ یہ اپنے تئیں ’مذہب پسند‘ کہلانے والے قائدین سرے سے کوئی تعبیری منہج رکھتے ہی نہیں اور طبقاتی سیاست کے لئے مذہب صرف ایک آسانی سے استعمال ہو سکنے والا آلہ کار ہے۔ دوسری طرف بحث صرف اضطرار یا مجبوری کی حالت میں مذہبی تعبیر پر نظر ثانی کی نہیں بلکہ یہ تسلیم کرنے کی ہے کہ ایک جدید سماج میں طبقہ علما کے ہوتے ہوئے بھی فرد کے خانگی دائرے سے متعلق تمام مذہبی تعبیرات کا اطلاق کسی صورت فرد کی رائے سے بالا تر ہو کر نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں مذہب فرد کے لئے کوئی شکنجہ نہیں بلکہ ایک ایسی لاٹھی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے ٹیک کر چلنے کے لئے قبول کرتا ہے۔

اب ہم اس تیسری جہت کی طرف آتے ہیں جو مذہبِ اسلام کی سرقبیلی روایت میں ایک نئے توازن کی تلاش کی طرف کچھ سوال اٹھانے کی کوشش ہے۔ مغرب میں مذہبی تعبیر کے نسائی منہج (Feminist Readings of Religious Tradition) کے نام پر اب ایک ٹھوس روایت وجود میں آ رہی ہے جو حقوقِ نسواں کے حوالے سے اپنے عمومی ردعمل پر مبنی مباحث کے علاوہ ایک بہت مثبت داخلی کشمکش بھی رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں کسی طبقاتی کھینچا تانی سے بالاتر ہو کر مذہب کو انسانی زندگی ، معاشرت اور سماجی نظریہ بندی میں ایک ناگزیر اور مثبت حوالے کے طور پر دیکھنے والے مذہب پسند طبقات کو رفعت حسین ، عزیزہ الہبری، آمنہ ودود، اسما برلاس، سعدیہ شیخ، کیسیا علی، عائشہ صدیقہ ، شبانہ میر اور عائشہ ہدایت اللہ کے علمی کام سے تعارف کی ضرورت ہے تاکہ مذہبی متون کی روشنی میں ہمارے سماج میں حقوقِ نسواں سے جڑے ایسے مسائل کا متوازن حل تلاش کیا جا سکے جہاں مذہبی روایت کسی ظالم و جابر پادشاہی حکم نامے کی بجائے اپنی اصل روح کے ساتھ پیش کی جا سکے۔ ہم اس کی ضرورت اس لئے محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے مخصوص سماجی منظرنامے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مذہب کی استبدادی تعبیرات کا مقابلہ صرف اور صرف متبادل تعبیرات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ حکومتِ وقت کی بدلتی ترجیحات سے یہ اشارے پہلے ہی مل رہے ہیں کہ سماج میں جبر سے کچھ نیم مذہبی اقداروں کے نفاذ کا پراجیکٹ بری طرح ناکام ہونے کے بعد اب معاشرے کو آزادانہ پھلنے پھولنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلی دو دہائیوں میں ایک مخصوص عربی فکر پر مبنی مذہبی تصنیفات اور ان پر مشتمل نصابِ درس و تدریس کو مختلف گلی کوچوں میں کسی قدغن کے بغیر بڑھنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت نسائی رجحانات کے تناظر میں مطالعہ مذہب کے لئے بھی راہیں ہموار کرے تو خود مذہبی طبقات میں سے ایسی سلیم الفکر اور روشن خیال خواتین کے سامنے آنے کی امید ہے جن کے سامنے یہ جبر و استبداد پر مبنی تعبیرات خود ہی دم توڑ دیں گی۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مذہبی متون کو کچھ پیش قیاسی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کیا جائے بلکہ ایک ایسی زندہ روایت کو فروغ دیا جائے جس میں آج کی عورت جو نہ صرف اپنی اولاد کو چلنا سکھاتی ہے بلکہ گاڑی چلانا اور تیرنا بھی سکھاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ سماج کا ایک فعال معاشی رکن بھی ہے، مذہب سے استفادہ کرتے ہوئے سماج میں ان جابر اور زن بیزار عناصر کا مقابلہ کر سکے جن کا آخری حربہ عورت کو ’فاحشہ‘ کہنا ہے۔

تنقید و تبصرہ سر آنکھوں پر

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے