ایک زمانہ ہوا ہمارے دوست وقار احمد ملک نے علم کی دوئی کے موضوع پر بحث چھیڑی تھی اور ہلکے پھلکے انداز میں تعلیم و تدریس سے جڑے سماجی مظاہر سے ایک تنقیدی ربط پیدا کر کے دکھایا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے اشارتاً غیر سنجیدہ عقلی رویوں اور سنسنی خیزی کی جانب کشش کو پسماندہ معاشروں تک محدود کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ان کے تنقیدی مزاج سے یقیناً ہماری مناسبت ہے اوران کے دعوے پر تجزیہ یا تنقیدتو شاید مزید تحقیقی ڈیٹا کا متقاضی ہو، لیکن بہرحال ہماری رائے میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس دوئی کی تہوں میں جو عوامل کارفرما ہیں وہ تمام انسانیت میں مشترکہ طور پر پائے جاتے ہیں اور اس مختصر سی تحریر میں ان کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے تاکہ کم از کم ایک بنیادی درجے کا اتفاق یا واضح اختلافِ رائے پیدا ہو سکے۔
ہماری رائے میں بظاہر تعقلی اور نیم تعقلی علمی رویوں کو دو خانوں میں بانٹتی یہ دوئی اپنی بنیادی ترین تہہ میں انسانی مزاج کی ایک نیم شعری (یا وجدانی) کیفیت کی خالص مادی تعقل (یا تجربیت پسندی) سے مسلسل کشمکش میں رہنے کی ایک ایسی خاصیت ہے جو ہمیشہ ہی اسے انسانی فطرت کا حصہ رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مظاہر اور درجات مختلف ہونے کے باوجود یہ دوئی ہم میں سے کم و بیش ہر انسانی مزاج میں کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے۔ اس سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ انسان مذہبی ہے یا غیرمذہبی، سائنسدان ہے یا شاعر ،اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے یا ان پڑھ اور کسی ترقی یافتہ شہری ثقافت سے تعلق رکھتا ہے یا پسماندہ دیہی طبقے سے ۔ بات کو مزید سادہ طریقے سے سمجھنے اور بحث کو فلسفیانہ سطحیت پر طبیعات اور مابعدالطبیعات کی ایک اور اہم دوئی پر منطبق ہونے سے بچاتے ہوئے ، ہم ا س دوئی کو شعری استعارے اور سائنسی دعوے میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ یعنی ہم یوں سوال کرتے ہیں کہ کیا کسی ایسی لسانی منطق کے امکانات موجود ہیں جو شعری استعارے اور سائنسی دعوے کو کم ا ز کم اپنی عمیق ترین تہوں میں کسی مشترکہ علمی سائبان تلے اکٹھا کر دے؟
اہلِ فلسفہ جانتے ہیں کہ یہ ایک قدیم سوال ہے جس کا تعلق لسانیات میں ایسی منطق کی دریافت سے ہے جو یہ واضح کر سکے کہ فلاں قضیہ مابعدالطبیعات سے تعلق رکھتا ہے اور فلاں کا تعلق ایسے انسانی احساسات و تجربات سے ہے جو مادی حقائق سے تعلق رکھتے ہوں اور جن کی پرکھ کے عالمگیر طریقے وضع کئے جا سکتے ہوں۔سِرّی (mystic) او رمنطقی تجربات پر اپنے ایک دلچسپ مضمون میں برٹرینڈ رسل نے اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ انسانی جبلتیں اپنے ارد گرد اور اندر موجود کائنات پر تفکر کے دوران ایک دوسرے سے یوں برسرِپیکار رہتی ہیں ایک جانب تو انسان ایک خفی قلبی واردات کی جانب کھنچا چلا جاتا ہے اور دوسری جانب وہ ایک طبیعاتی نوعیت کے تجربے کی بھی شدید خواہش رکھتا ہے۔انسان کے اندر جو بھی جبلت مضبوط ہو ، اس کا مزاج اسے اسی قسم کی منطق کی جانب مائل کرتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں ڈیوڈ ہیوم جیسے فلسفی تجربیت پسندی کی جانب بڑھتے ہوئے عظمت کی بلندی کو چھو لیتے ہیں اور دوسری طرف ولیم بلیک جیسے شعراء ایک شدید سائنس مخالف رویہ رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی جب فلسفہ رائج مذہبی اور سائنسی رویوں پر حاکمیت کا دعوی کرتا ہے تو ایک ایسی مشترکہ منطق کی دریافت ہمیشہ فلسفے کے لئے ایک چیلنج رہتی ہے جو کائنات کے متعلق ہمارے احساسات اور فہم کو اکائیوں میں بانٹنے کی بجائے ایک کُل میں پرو کر دکھا دے۔
اس کوشش کی ابتدا تو یقیناًاس ناگزیر مفروضے سے ہوتی ہے کہ مختلف اجزاء کے ملاپ سے ایک ایسے کُل کی دریافت ممکن ہے، لیکن مشترکہ منطق کی دریافت کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ شعری ، نیم تعقلی یا وجدانی علمیت سے نمودار ہونے والے قضایا کو بعینہٖ اسی منہج کے اندر رہتے ہوئے تجزئیے کے عمل سے گزارا جا سکتا ہے جو خالص تعلقی یا سائنسی علمیت کا منہج ہے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے اورزمانۂ جدید میں علوم کے درمیان ایک soft sciences اور humanities اور hard sciences کی تقسیم افادیت کے اعتبار سے مسلمہ ہے۔ ہمارے نزدیک کُل میں پرونے کے معانی صرف یہ ہیں کہ تمام علوم کو اپنے مخصوص مناہج کے اندر رہتے ہوئے کسی قسم کی تخفیف یا نفی کے بغیر انسانیت کی ایک مشترکہ علمی میراث مان لیا جائے۔ لیکن اس وسیع میدان میں داخل ہوتے ہی یہ بحث فلسفے سے نکل کر خالص لسانیات میں داخل ہو جاتی ہے اور ہم اس معاملے میں خود کو اُس مجذوبِ فرنگی سے کافی حد تک متفق پاتے ہیں جس کے نزدیک سائنس کا پھیلاؤ بہت حد تک کسی ایسی مشترکہ منطق کے امکانات کو معدوم کرتا چلا جا رہا ہےجہاں سائنس نہ صرف علل و آثار پر حکومت قائم کر چکی ہے بلکہ اس علل و آثار کے تسلسل کی ماہیت پر بھی ایک حتمی رائے رکھتی ہے۔
ہوتا یوں ہے کہ جدید سائنسی ذہن ایک اعتقاد کے طور پر کائنات کو ایک اٹل سائنسی ربط میں محدود کر دیتا ہے اور پھر اس ربط پر سائنسی منہج کی مخصوص منطق کے ذریعے حکم لگاتا ہے۔ ایسے میں متبادل مناہج کے منطقی سقم واضح کرنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی کیوں کہ علل و آثار کے تسلسل پر حکمرانی ایسی کسی منطق کا جواز باقی نہیں رہنے دیتی۔ مثال کے طور پر چونکہ بارش کا ہونا ایک طبعی مظہر ہے لہٰذا کچھ طبعی عوامل کے زیرِ اثر ہے جن کی کامل دریافت بارش کے طبعی مظہر کو مکمل طور پر اس طرح واضح کر دیتی ہے ہے بارش کا مظہر اپنی شعری یا طلسماتی کیفیت کھو بیٹھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بارش کے طبعی مظہر میں ایسا کچھ بھی نامعلوم نہیں رہتا جس کو بس ناملفوظ ہی رہنے دیا جائے۔ یوں بارش کا مظہر اپنی استعاراتی جہت کھو بیٹھتا ہے اور ایک سطح پر تو سماج میں شعر اور آرٹ وغیرہ فرصت کے مشاغل ٹھہرتے ہیں اور دوسری سطح پر نمازِ استسقاء پڑھنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی۔ بالکل اسی طرح خطِ تنصیف کے دوسری طرف کھڑا انسان اس تکرار پر مسلسل آمادہ رہتا ہے کہ زلزلوں کی علت قشرِ ارض کی مخصوص ساخت یعنی کٹاؤ، ابھار اور باہمی ٹکراؤ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ انسانوں کے ’فحش ‘ اخلاقی رویوں کا نتیجہ ہے۔ دونوں جہتیں زمانۂ قدیم کی کسی کھوئی ہوئی منطق سے متعلق ٹھہرتی ہیں کیوں کہ جدید انسان امکانات کے درجے میں یقینِ کامل رکھتا ہے کہ بالآخر ‘ نامعلوم’ کا دائرہ سکڑتے سکڑتے ایک نقطے میں معدوم ہو جائے ۔
لہٰذا ہماری رائے میں یہ مسئلہ پسماندہ دقیانوسی ذہنیت اور ترقی یافتہ ذہنیت کی علمی مناہج میں ٹکراؤ کا نہیں بلکہ ایسے اعتقادات کے مصنوعی ٹکراؤ کا ہے جو کبھی تو ایک ہی منطقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن آخر کار کائنات اور انسان کے باہمی تعلق میں تبدیلیوں اور ایک نئی دنیا کے ظہور کے بعد علیحدہ ہو گئے۔ ہاں نظریۂ علم میں ترقی کے کسی استعماری تصور کو فرض کیا جائے تو یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ جدید سائنس کا ظہور مشرق سے نہیں ہوا لہٰذا وہ نئی دنیا ، وہ نئی علمیات، وہ نئے وجودی تصورات اور کائنات سے قدیم انسانی رشتوں کی قلبِ ماہیت ، صنعتی دور کے بعد ہمارے ’پسماندہ ذہن ‘ کو ایک سادہ مظہری سطح پر ورثے میں ملی۔لیکن اگر بالفرض ایسا مفروضہ معقول نہ مانا جائے تو انسانیت کے اس مشترکہ سفر میں مذہبی و غیر مذہبی ذہن، ضعیف الاعتقاد اور سائنسی ذہن، یا رجعت پسند یا ترقی پسند ذہن کی تمام تر دوئیاں کافی حد تک مصنوعی معلوم ہوتی ہیں۔ علمیت کے دائرے سے جنم لیتی واحد بامعنی دوئی معنویت اور لامعنویت کی ہے۔ یہاں اگر ایک طرف ’نامعلوم‘ کو حتمی تصور کیا جاتا ہے تو دوسری طرف ’نامعلوم ‘ سے ’معلوم‘ کی طرف ایک لامتناہی سفر کا عقیدہ لازم ہے۔ یہ رجائیت پسند ذہن کا ایک اٹل اعتقاد ہے کہ سائنس بالآخر تمام حقائق سے پردہ اٹھا دے گی،فطرت کو پوری طرح اپنے شکنجے میں کس لے گی اور ایک کامل انسانی مسرت کا حصول ممکن ہو جائے گا۔ لیکن یہ رجائیت پسند ذہن بھی اس المیے سے نفسیاتی طور پر واقف ہوتا ہے کہ اگر ایسا ممکن ہوا تو معنی کی دریافت کا عمل مکمل ہو جائے گا اور نہ صرف زندگی بلکہ موت میں بھی کوئی کشش باقی نہ رہے گی۔البرٹ کامیو نے اسی لئے کہا تھا کہ خود کشی ہی واحد سنجیدہ فلسفیانہ مسئلہ ہے۔
قصہ مختصر، اگر اس اس نکتۂ آغاز کو مان لیا جائے کہ اس دوئی کا راز معنویت اور لامعنویت سے برسرِ پیکار رہنے میں ہے ، اور جہاں ایک طرف خلا کو پر کرنے کے لئے معنویت کو اعتقادی طور پر پیش قیاس کیا جاتا ہے تو دوسری طرف لامعنویت سے ٹکراؤ ایک المیے کی صورت میں سامنے آتا ہے، تو سماج میں اس مسئلے کی تمام تر مظہری جہتوں پر کلام ممکن ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں فی الحال بات نطشے کی اس اہم نصیحت پرختم کرتے ہیں۔
’’جو کوئی بھی تدبر کرے گا اسےافلاطونی سقراط ’یونانی خوش مزاجی‘ اور زندگی کے بارے میں مسرت آمیز رویے کی ایک نئی شکل کے مدرس کے طور پر نظر آئے گا جو اپنے آپ کو اکثر طبقۂ شرفا کے نوجوانوں پر ایسے سقراطی اور تدریسی اثرات کی صورت میں ظاہر کرنے کو مچلتا ہے جن کا مقصد غیرمعمولی تخلیقی قوتوں کا ظہور ہے۔
لیکن اب اس طاقت ور سراب کی ٹھوکر کے زیرِ اثر سائنس بلا روک ٹوک اپنی ان حدود کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے جہاں منطق کے لئے ناگزیر رجائیت پسندی زمین بوس ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ دائرۂ سائنس کے محیط پر لامتناہی نقاط موجود ہیں اور گو کہ اب تک یہ بتانا ناممکن ہے کہ یہ دائرہ کب اور کیسے پورا ناپا جائے گا، یہ عالی مرتبہ، خدادداد قابلیتوں کا حامل انسان اپنی زندگی کے وسطی حصے میں داخل ہونے سے بھی پہلے اِس محیط تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو اِس کنارے پر کھڑے ہو کر تاحدنگاہ ایک ناگفتنی خلا کی جانب گھورتا ہوا پاتا ہے۔ اگر وہ اِس طرف نگاہ کرےتو اس پر یہ حوصلہ شکن حقیقت منکشف ہو گی کہ منطق کس طرح گھوم کر اپنے ہی گرد لپٹ رہی ہےاور باالآخر جب وہ اپنی ہی دم کو دانتوں سے بھنبوڑ دیتی ہے تو بشرطِ برداشت ایک نئے علم کا ظہور ہوتا ہے، ایک المیہ علم جسے اپنی حفاظت اور دوا دارو کے لئے آرٹ کی ضرورت ہے۔
آئیے اب اپنی نظریں، جو اب تک یونانیوں کو دیکھ دیکھ کر طراوت پا چکی ہیں، کائنات کے ان ارفع ترین دائروں کی جانب پھیرتے ہیں جو ہمارے گرد گھوم رہےہیں۔ ہم سقراط کی شکل میں علم کی ایک ناشکیب اور رجائیت پسند تشنگی سے متعارف ہوتے ہیں جو ایک المیہ دستبرداری پر مائل ہے اور آرٹ کی متمنی ہے، جبکہ دوسری طرف اپنے زیریں درجوں میں اتنے ہی جوش کے ساتھ آرٹ سے دشمنی ظاہر کرتی ہے اور دیونیسی المیے کو شدید ناگوار گردانتی ہے۔ یعنی یہ وہ مشاہدہ ہے جو ہم نے اسکوکلیسی المیے اور سقراطیت پسندی کے درمیان جنگ کی صورت میں کیا۔
اب ہم ایک عالمِ اضطراب میں حال اور مستقبل کے آستانوں پر دستک دیتے ہیں کہ کیا یہ قلبِ ماہیت نئی اعلیٰ ترین تخلیقات کی جانب راہیں کھول دے گی، بالخصوص ایک موسیقار سقراط کی جانب؟
کیا آرٹ کا یہ جال جو ہستی پر پھیلا ہے مذہب یا سائنس کے نام پر ہی مزید سختی اور لطافت سے تن جائے گا یا اس کی تقدیر میں اس بیقرار اور وحشی غوغائے مسلسل کے قدموں تلے آکر چیتھڑا بن جانا لکھا ہے جس کا نام ’حال‘ ہے؟
آئیے کچھ دیر کے لئے ذرا سا ہٹ کر اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ ہم مشوش تو ہوں لیکن دل شکستہ نہیں، ان متفکر انسانوں کی طرح جن کی تقدیر میں اُن ہیبت ناک جنگوں اور تبدیلیوں کا مشاہدہ رقم تھا۔حیف! کہ اُن جنگوں کا طلسم کچھ ایسا تھا کہ اس کا مشاہدہ کرنے والے ہر نفس پر لازم تھا کہ وہ اس کھینچا تانی کا حصہ بن جاتا۔‘‘
(المیے کی پیدائش)