اسلام کا بشریاتی تناظر

کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی… آگے پڑھیے اسلام کا بشریاتی تناظر

کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

محترم برشوری صاحب نے مدارس کے نظامِ تعلیم پر جاری بحث پر ایک ’’اپالوجی‘‘ پیش کی ہے جس سے فریقین یقیناً فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناقص رائے پر ہرگز اصرار نہیں لیکن پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا ہے کہ برشوری صاحب نے یہاں ایسی کئی بحثوں کو ایک ساتھ چھیڑ دیا ہے… آگے پڑھیے کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

اپنے نیم میکانی استمراری معمول کے مطابق میں ان دنوں بھی کئی کتابیں  ایک ساتھ پڑھ رہا ہوں۔ دنوں مہینوں سالوں کی قید کچھ خاص معنی نہیں رکھتی لیکن حرص مجھے ہر لمحہ ماپ تول  کی جانب مائل رکھتی ہے۔ کیا روز ایک کتاب؟ ہفتے میں دو، تین یا چار؟ چلو  یہ سہ ماہی ہر… آگے پڑھیے جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

ہمپٹی ڈمپٹی اور سیکولرازم

’ونڈر لینڈ‘ نامی فرنگی سرزمینِ عجائب میں اپنی مہم جوئی کے دوسرے حصے میں ایلس باالآخر ہمپٹی ڈمپٹی نامی ایک انڈے نما مخلوق سے متعارف ہوتی ہے۔ اِدھر اُدھر کی دلچسپ اور معنی خیز جملے بازی کے بعد بالآخر کہانی میں وہ مقام آتا ہے جہاں ایلس ہمپٹی ڈمپٹی کے استفسار پر اپنا نام ظاہر… آگے پڑھیے ہمپٹی ڈمپٹی اور سیکولرازم

اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

ہمارے ہاں بہت سے نقادوں کا خیال ہے کہ سماجی و سیاسی میدان میں سرگرم دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ  اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی  تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف… آگے پڑھیے اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

پدرسری مذہبی روایت میں توازن کی تلاش

ان تمام مذہبی روایتوں میں جہاں الہامی متون کو مرکزیت حاصل ہو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ خدائی ارادہ کسی نہ کسی طرح متن سے جڑا ہے۔ یہاں یہ مفروضہ ثابت ہے کہ خدا متن کے ذریعے فرد سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے اور خارج سے اس پر ظاہر ہو کر کچھ داخلی… آگے پڑھیے پدرسری مذہبی روایت میں توازن کی تلاش