پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی مزاج کا حصہ رہی ہے جدید دور تک پہنچتے پہنچتے کچھ ایسی شدت اختیار کر چکی ہے جس کی اولین بازگشت بہت سے انیسویں اور بیسویں صدی کے بہت سے فلسفیوں کے ہاں سنی جا سکتی ہے۔
نمونے کے طور پر نطشے کی کتاب ’المیے کی پیدائش‘ کا وہ اقتباس تھا جس میں نطشے ایک موسیقار سقراط کی تلاش کے بارے میں سوال اٹھاتا اور آرٹ، سائنس اور مذہب کی باہمی جنگوں کے مستقبل کی جانب کچھ مبہم اشارے کرتا ہے۔ یہ کچھ ایسے واضح اشارے ہیں جن کا مشاہدہ ہماری موجود گلوبل ثقافت پر نظر رکھنے والا اہل علم اور کوئی عام انسان یکساں آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ زمانۂ جدید میں مختلف علمی میدانوں میں تحقیق و تنقید کے نتائج کی عوام تک منتقلی کی رفتار میں ایک ایسا انقلاب رونما ہوا ہے جسے بجا طور پر ہمارے زمانے میں ثقافت کی اہم ترین جہت کہا جا سکتا ہے۔
بہت سے مثبت فوائد جن میں سب سے اہم ایجادِ علم اور تحقیق و تنقید کی سرحدوں سے قطع نظر انسانیت کی ایک مشترکہ میراث کے طورپر قبولیت ہے، وہیں اس منظرنامے نے کچھ منفی رجحانات کو بھی جنم دیا ہے۔ ہماری رائے میں ان منفی رجحانات میں سے دو اہم ترین ہیں جن میں اول، مختلف علمی مناہج کا شدید باہمی ٹکراؤ اور دوم، مختلف قسم کے تعصبات کے ہاتھوں ایک ایسی فکری جنگ جس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہونے کی امید پیدا نہیں ہو سکتی۔
چونکہ اس مسئلے کا بنیادی تناظر ثقافت اور علمیات کے دو ستونوں پر استوار ہے لہٰذا تجزیہ اس وقت تک بامعنی نہیں ہو سکتا جب تک اسے اپنے مخصوص سماجی رویوں کے پس منظر میں پیش نہ کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گلوبلائزیشن کے بعد انسانی رویوں کو اٹل سماجی خاکوں تک محدود کرنا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے لہٰذا یہ مفروضہ بھی بہت زیادہ نامعقول نہیں کہ ہمارے سماجی رویوں کے عکس باآسانی ہمیں ترقی یافتہ اور ہم سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں بھی مل جائیں گے۔
لیکن اس کے باوجود مغرب میں مذہبی تشکیلِ نو، روشن خیالی کی تحریک سے جنم لینے والے علمی و سیاسی مناہج اور بعد ازاں ایشیا اور افریقہ کی کئی اقوام پر نوآبادیاتی تسسل کے نتیجے میں ’ترقی‘ اور ’علم‘ جیسی ناگزیر بنیادی اصطلاحات پر یوروپی اقوام کی ایک خاطر خواہ طویل اجارہ داری کے بعد اب ایک ایسا اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے جس کا انکار تو کجا اس پر سوال اٹھانا بھی ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا۔ یوں ہماری رائے میں بظاہر معلوم ہونے والا یہ علمی مناہج کا ٹکراؤ دراصل خالص علمی مناہج کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ایک حقیقی علمی منہج کا کئی تصوراتی اور مبہم علمی مناہج سے ایک ٹکراؤ ہے۔

یہاں ایک طرف سائنس ہے جو سرمایہ دارانہ ثقافت میں نہ صرف حقیقت کی دریافت بلکہ حقیقت کی ایک ایسے تشکیل کر رہی ہے جس میں سائنسی علمیت سے برآمد ہونے والے نتائج ایک مجرد تقدیس سے لازمی طور پر منسلک ہیں۔ اس تقدیس کا ظہور بہت منطقی اور معقول بھی ہے کیوں کہ ان نتائج سے ظہور میں آنے والے مظاہر نہ صرف تمام بصارتوں کی دسترس میں ہیں، بلکہ ان کو ایک قدر کے طور پر عوام میں متعارف کروایا جا چکا ہے، جس کے لئے نہ صرف عوامی ادب بلکہ تمام دوسرے ابلاغی وسائل بھی اپنا کام یکسوئی سے جاری رکھے ہیں۔
دوسری طرف مذہبی مبلغین اور متکلمین کا تعلق ایسے مظاہر کی تبلیغ سے نہیں جو تمام بصارتوں کی یکساں دسترس میں ہو بلکہ خالص اخلاقی اور نفسیاتی تجربات سے ہے۔ لیکن اب ان دو دائروں کو بھی سائنس تیزی سے نگل رہی ہے اور یہ عمل کسی کم از کم سطح پر کچھ ایسے سوال پیش کر چکا ہے جن کا جواب تاحال مذہب کے پاس اس طرح موجود نہیں کہ عصرِ حاضر کا ہر انسان اس سے یکساں طور پر معقول ذہنی مناسبت پیدا کر سکے۔ لہٰذا بادی ٔ النظر میں یہ عمومی مذہبی رویہ ایک طرف تو مذہبی منقولات پر اصرار اور دوسری طرف مقابلے میں موجود سائنسی معقولات پر ایک تشکیک آمیز ردعمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تجزیہ کچھ بھی ہو، بہرصورت، ہماری رائے میں یہ متعلقہ مسائل کی وہ جہت ہے جہاں دو قدرے مختلف علمی منہج اپنی اپنی قدر اور معنویت پر اٹل یقین رکھتے ہوئے اور ان مناہج کی بنیادوں پر تشکیل پاتے ضوابط پر مکمل حق جتاتے ہوئے باہم نبردآزما ہیں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا دوسرا رجحان خالص علمیت سے جنم لیتی مشکلات نہیں بلکہ کچھ مخصوص تعصبات سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری رائے میں ان تعصبات کی بنیاد علمی بھی ہے اور نفسیاتی بھی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ تعصبات باجواز بھی ہیں اور بے جواز بھی۔ ہماری رائے میں باجواز تعصبات وہ ہیں جہاں ایک دوسرے کے دائرۂ عمل کو تسلیم کرتے ہوئے ہی کسی بھی مثبت عمرانی تشکیل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے، یعنی تفہیم کا عمل جاری رکھتے ہوئے مسلسل اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اس قسم کے تعصبات نہ صرف مختلف پیش قیاسی مفروضوں بلکہ متوقع نتائج کی پیشین گوئیوں سے بھی منسلک ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی بعینہٖ اسی قسم کے سوالوں کا اٹھنا ناگزیر ہے جو تین چار سو سال قبل یوروپی سماج میں جنم لیتی فکری تحریکوں میں اٹھ چکے ہیں اور نہ صرف مغربی تاریخِ فکر بلکہ یوروپی ادب اور آرٹ کا بھی مسلسل موضوع رہے ہیں۔ لہٰذا اہم بات ان سوالات کے جوابات پر اصرار نہیں بلکہ مسلسل تلاش کے اصول پر اتفاق ہے۔
تاریخِ فکر یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی علمی منہج کو استبدادی طریقوں سے من پسند دائروں میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مذہب یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اور صنعتی ترقی کی بنیادوں میں موجود سائنسی علمیت پر اخلاقی و فلسفیانہ تناظر میں کچھ سوال اٹھائے تواسی طرح سائنس سے بھی یہ حق سلب کرنا ناممکن ہے کہ وہ مذہب کے من پسند سوالوں سے کامل لاتعلقی ظاہر کردے۔

دوسری طرف بے جواز تعصبات وہ ہیں جہاں بظاہر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ سمجھوتے کی راہیں ناممکن ہیں اور کسی بھی صورت استبداد کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس صورت میں ایک طرف تو سائنسی علمی مناہج مذہبی سماجیات میں آکر کئی الہامی و تہذیبی دعووں کو چیلنج کرتے ہیں جن سے دونوں جانب ایسے رویوں کو بڑھاوا ملتا ہے جو اپنی اصل میں بے جواز تعصبات پر مبنی ہوتے ہیں، کیوں کہ اپنے اپنے مناہج کے اندر رہتے ہوئے بھی ایسے تنقیدی رویے باآسانی تلاشکیے جا سکتے ہیں جو خود اسی منہج کے اندر سے برآمد ہونے والے اصول و ضوابط پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
یعنی رائج سائنسی علمیات پر فلسفۂ سائنس کی متنوع روایتیں اور مذہبی روایت پسند علمیات پر تجدد پسند مذہبی روایتیں اس قسم کی تنقیدیں فراہم کرتی ہیں۔ اس صورت میں اگر ایک طرف روایتی مذہبی علمیات کو چیلنج کیا جا رہا ہوتا ہے تو دوسری طرف روایتی سائنسی علمیات بھی تنقید سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ اس صورت میں یہ عام دیکھا گیا ہے کہ روایتی سائنسی منہج تو مذہبیات پر تنقید کے لئے کچھ خاص محتاج نہیں ہوتا کیوں ایک عمومی مادہ پرستی اور منطقی یا نیم منطقی اثباتیت ہی اس کے لئے کافی ہوتی ہے، لیکن روایتی مذہبی نقاد اور متکلمین عام طور سائنس پر ہوئی مابعد الجدید تنقیدوں کو ایک مخصوص چنیدہ انتخابیت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ان کا دعوی یہی ہوتا ہے کہ سائنسی ضوابط اور طریقہ ہائے کار تو خود فلاسفہ ٔ سائنس کے ہاں ہی مشکوک ہیں حالانکہ عموماً ان نقادوں کا ان سائنسی ضوابط سے دور پار کا بھی عملی و نظری تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سہل پسندی ان کی مجبوری سے جنم لیتی ہے اور اس لئے بے چارگی کی علامت ہے کہ جہاں متشدد اور نیم متشدد بلکہ ہمدرد سائنسی تنقیدیں تک سماج میں مذہبی علمیات کے ڈھانچے کو شدید متاثر کرتی ہیں وہاں مذہبی متکلمین کے حلقوں سے برآمد ہوتی تنقیدیں ایک مخصوص نفسیاتی تسکین کے علاوہ کسی قسم کا کوئی عملی اضطراب پیدا نہیں کرتیں بلکہ باہمی تضحیک و تحقیر کی آگ مزید بھڑکاتی ہیں۔ اس کے برعکس خود فلسفۂ سائنس سے برآمد ہوتی تنقیدیں خواہ ان کی جہت کچھ بھی ہو براہِ راست سائنسی علمیات کے حلقوں میں شدید اضطراب کا باعث بنتے ہوئے ان نادر بحثوں کا آغاز کرتی ہیں جن سے دائرۂ سائنس میں نئے عملی اصول و ضوابط مرتب ہوتے ہیں اور یوں عمومی طور پر ایک مثبت علمی سفر جاری رہتا ہے۔
یہ تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں کہ باجواز اور بے جواز دونوں قسم کے تعصبات بہرحال انسانی مزاج کا حصہ ہیں اور حتی الامکان ہمارے محبوب ترین اعتقادات بھی ہمارے ذہنی میلانات، روش ِ استدلال اور متنوع ذاتی تجربات کا ایک پیچیدہ مرکب ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے سماج میں اس خطِ تقسیم کے دونوں اطراف کا ایک مفصل جائزہ درکار ہو تو پروفیسر ہود بھائی صاحب کی کتاب ”مسلمان اور سائنس“ (مطبع: مشعل بکس، لاہور) اور محمد ظفر اقبال صاحب کی کتاب ”اسلام اور جدید سائنس نئے تناظر میں“ (مطبع: مکتبہ نوادرات، ساہیوال) کے پہلے پانچ ابواب کا بالموازنہ مطالعہ یقیناً کئی اعتبار سے چشم کشا ہو گا۔

یہاں ہرگز یہ موازنہ یا مذکورہ بالا کتب پر تنقید و تبصرہ نہیں بلکہ صرف اس مشاہدے کی دعوت دینا مقصود ہے کہ یہ باجواز اور بے جواز تعصبات کس قسم کے ہیں اور ان سے کس حد تک اوپر اٹھنا ممکن ہے۔ جہاں ہود بھائی ہمیں ایک عملی سائنسدان کے زاویۂ نظر سے یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ سائنس کو ہر قسم کی مابعدالطبیعاتی، مذہبی اور نیم مذہبی آلودگیوں سے آزاد کرنا ترقی و خوشحالی کی ضمانت اور عقل پرستی کا تقاضا ہے، وہاں ظفر اقبال کی کتاب ایک مذہبی مناظر کا نکتۂ نظر قائم کرتے ہوئے، چند مخصوص فلاسفۂ سائنس کے من پسند اقتباسات کی مدد سے یہ ثابت کر تی نظر آتی ہے کہ سائنس معروضی علم ہی نہیں اور حقیقتِ زمان و مکاں تک اس کی رسائی کے تمام دعوے اٹکل پچو ہیں۔
جو بھی کم از کم اپنے بے جواز تعصبات سے بالاتر ہو کر یہ موازنہ کرے گا، وہ یقیناً ہماری اس رائے سے خود کو متفق پائے گا کہ یہ اب بالعموم مسلم سماج اور بالخصوص ہمارے مسلم سماج میں معقولات بمقابلہ منقولات کی بحث نہیں، بلکہ دو ایسے علمیاتی مناہج کا مجادلہ ہے جو بہرحال اپنے اپنے منقولات سے ہی سند لیتے ہیں۔ اگر فی زمانہ ہمارے ہاں مذہبی فکر کی حالت ابتر ہے تو سائنس یا فلسفۂ سائنس کی ذیل میں تو خیر ہم تاریخِ قریب کیا تاریخِ بعید میں بھی کوئی بہت زیادہ قابلِ فخر نام پیش نہیں کر سکتے۔
ایسے میں سائنسی مبلغین کی جانب سے اس ابتر حالت کا سارا ملبہ چند چنیدہ ناموں مثلاً غزالی وغیرہ پر ڈال کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ مسلم فکر بالعموم تعقلی روایت کے خلاف کھڑی رہی ہے اگر صریحاً غلط نہیں تو کم از کم محلِ نظر ضرور ہے۔ لیکن اگر بالفرض اس دعوے سے اتفاق بھی کر لیا جائے تو یہ سوال تو پھر بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
جہاں تک روایتی مذہبی فکر کی بات ہے توبدقسمتی سے اس کا عمومی دھارا کسی نہ کسی حد تک فکری استبداد ہی کا متمنی نظر آتا ہے۔ اس استبداد کی شکلیں متنوع ہو سکتی ہیں، مثلاً کسی مذہبی ریاست کے ذریعے سائنسی علمیات کے تعقلی اور نیم تعقلی مفرضوں کو مذہبی تعبیرات کی چھلنی سے گزارنا، تعلیمی نصاب سے ایسے سائنسی نظریات کو دور رکھنا جن سے مخصوص روایتی مذہبی تعبیرات و مسلمات پر حرف آتا ہو اور سماجی تشکیل کے لئے رائے عامہ کی ہمواری کے دوران ان طبقات کو استبدادی رویوں سے بحث سے باہر رکھنے کی کوشش کرنا جو عقلیت پسندی، تجربیت پسندی اور مذہبی تجدد کے ذہنی میلانات رکھتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف سائنسی فکر گو اس قسم کے صریح استبدادی رویے تو پیش نہیں کرتی لیکن وہاں بھی ایک ایسا نیم استبدادی رجحان ضرور نظر آتا ہے جہاں مذہبی فکر کو لازمی طور پر عقلیت پسندی اور استدلال کی تعقلی روایت کے خلاف باور کرایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کے مادیت پسند طبقات کا تاریخ ِ فکر کے بارے میں عمومی مفروضہ یہی ہے کہ قرونِ وسطی سے سائنس اپنی تمام قدیم و جدید شکلوں میں تعقل پسند روایت کی امین رہی ہے اور مذہب کی کلسیائی روایت نے اس پر مختلف طریقوں سے استبدادی حربے آزمائے ہیں۔
یہ ایک ایسا عمومی تناظر ہے جس میں سماج کا اوسط تعلیم یافتہ فرد ہی نہیں بلکہ سائنسی و سماجی علمی شعبوں، فنونِ لطیفہ اور صنعت کاری سے منسلک اعلی تعلیم یافتہ افراد اور جدید و قدیم میں پُل تعمیر کرتا مذہبی عالم یکساں طور پر خود کو دو ایسے متنازعہ فکری رویوں کی سرحد پر ششدر کھڑا پاتے ہیں جن کے بیچ بظاہر مفاہمت و موافقت کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔
اس عمومی پس منظر میں ہم اپنی رجائیت پسندی کے ہاتھو ں مجبور خود کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم کی اس امید سے متفق پاتے ہیں کہ عملیت اور حقیقت پسندی کو راہنما اصولوں کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے اب بھی کوشش کی جا سکتی ہے مسلم ممالک میں حقیقی سائنس پروان چڑھے۔ ان کی طرح ہماری رائے میں بھی پروفیسر ہود بھائی کی تنقید اس حد تک نہایت صائب ہے کہ ایک آزادانہ فکری ماحول کو ممکن بنائے بغیر سائنسی فکر اور تخلیقی روایت کی بنیاد نہیں ڈالی جا سکتی اور ماضی میں کی گئی ”اسلامی سائنس“ جیسی کوششیں مضحکہ خیز وارداتوں سے زیادہ کچھ نہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری رائے میں سائنس کو ایک مخصوص قسم کی فلسفیانہ منطقی اثباتیت سے بھی آزاد کرانے کی ضرورت ہے جو پچھلی صدی کے دوران مغرب میں رواج پاتے پاتے اب سائنسی دنیا کا ایک غالب فکری رویہ ہے۔ ڈاکٹر ہود بھائی کی کتاب کے دیباچے میں ڈاکٹر عبدالسلام کا یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ خدا پر پکے یقین رکھنے والے تھے اور وائن برگ پکا ملحد لیکن دونوں کی باہمی مفاہمت کے نتیجے میں کمزور اور برقیاتی مقناطیسیت کی قوتوں کو متحد کرنے کا نظریہ ٔطبیعات دریافت کیا گیا۔
عبدالسلام مزید فرماتے ہیں کہ اگر اُن کی فکر میں قوتوں کی اتحاد کا کوئی ماقبل تجربی مفروضہ تھا تو وہ غیر شعوری طور پر ان کے اسلامی پس منظر سے ماخوذ تھا۔ ان کے اس دلچسپ اعتراف کا مطالعہ کچھ نہایت اہم نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں سے بنیادی ترین نتیجہ یہی ہے کہ کوئی بھی تخلیقی عمل بہرحال تخلیق کار کی شعوری اور غیر شعوری ذہنی روش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ علمی منہج اور اصول و ضوابط وہ ناگزیر دائرہ مہیا کرتے ہیں جو اس کی تخلیق کو سند عطا کرتا ہے۔
ایک سائنسدان کی دریافت کا سفر ہی اس کی تخلیقی کائنات ہے اور اس راستے کا ہر پڑاؤ یعنی سائنسی نظریہ، اس کی تخلیق۔ با الفاظِ دیگر سائنس اور غیرسائنس میں فرق تو ان اصول و ضوابط کا محتاج ہے جو لازماً سائنسدانوں کے طبقے میں مسلمہ مانے جانے چاہئیں، لیکن فرد کو اولین مقدمات و مفروضات قائم کرنے کے لئے شعوری و غیرشعوری طور پر کچھ مخصوص ذہنی میلانات کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا وہ تخلیقی عمل کو کسی شکنجے میں قید کرنے کے مترادف ہو گا اور سائنس پر بعینہٖ اسی قسم کے استبداد کا الزام لگنا باجواز ٹھہرے گا جسے عمومی طور مذہب سے منسلک کیا جاتا ہے۔ کسی بھی تخلیقی روایت کو پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ تجسس کی راہوں کو حتی الوسع کشادہ رکھا جائے۔
البرٹ کامیو اپنے ایک ناول میں لکھتا ہے کہ جنہیں ہم بنیادی اور اٹل سچائیاں کہتے ہیں وہ دراصل وہی ہوتی ہیں جنہیں ہم سب سے آخر میں دریافت کرتے ہیں۔ آج جس وقت ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں اس وقت دنیائے سائنس میں چوٹی کے ماہرینِ مقیاسیات پیمائش کی سات بنیادی اکائیوں یعنی سیکنڈ، میٹر، کلوگرام، مَول، کینڈیلا، کیلون اور ایمپیر کی نئی تعریفات وضع کر رہے ہیں۔ یہ وہ مقدس اکائیاں ہیں جن سے نہ صرف ہماری کائنات کے تمام طبعی مظاہر کی تفہیم بلکہ تسخیر بھی ممکن ہوتی ہے۔
زمان ومکان، مادے کے خوائص اور باہمی کشش، روشنی اور اس کی چمک، اور ان سے جڑے ان گنت مظاہر ہیں جو ان اکائیوں کے بغیر اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ یہ وہ مقدس حروف ہیں جو عصرِ حاضر کی سائنسی ثقافت کی عام فہم زبان کا نامیاتی جزو ہیں۔ یہ ساتوں اکائیاں سات ایسے طبعی مظاہر پر سختی سے منحصر ہیں جو کمرہ ٔ جماعت اور نصابی کتب میں استعمال ہونے والی سائنس کی عمومی تدریسی لغت کے مطابق غیر متغیر ہیں۔ ماہرین مقیاسیات کے نتائج سامنے آتے ہی نصابی کتب میں ان تمام ”غیر متغیر“ طبعی مظاہر کی نئی پیمائش کا اندرج کر لیا جائے گا۔
دنیا کے تمام سائنسی محققین، اساتذہ اور طالبعلم ان نئی پیمائشوں پر کم و بیش ٖ اسی طرح ایمان لے آئیں گے جس طرح الہامی کتابوں کے ماننے والے ان میں موجود عقائد پر ایمان رکھتے ہیں۔ یقیناً یہاں جوش و خروش اس حد تک تو نہیں ہو گا کہ ان میں سے کچھ اپنے عقائد کی خاطر مرنے مارنے پر اتر آئیں لیکن ہمیں صرف سماج میں اعتقاد کی ماہیت کو واضح کرنا مقصود ہے۔
اس مثال سے ہمارا مقصد صرف ہمارے تیسری دنیا کے پسماندہ سماج میں سائنسی تدریس سے جڑے مسائل کو سامنے لانا ہے۔ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ اس تدریس کا درجہ کیا ہے یعنی اسکول اور کالج کی سطح کی بنیادی تعلیم یا پھر جامعات میں دی جانے والی اعلی تعلیم۔ ہمارے مشاہدے کی حد تک دونوں طر ف معاملات کچھ خاص مختلف نہیں۔ جدید تدریسی نظریات میں استاد اور شاگرد کو ایک منزل کی جانب سفر میں کسی حد تک ہمراہ تو مانا گیا ہے لیکن ہماری رائے میں ہمارا زیادہ بڑا مسئلہ طالبعلم نہیں بلکہ اساتذہ ہیں۔
کمرہ جماعت میں اس حقیقت کا ابلاغ تو لگاتار ہو رہا ہے کہ روشنی کی رفتار کیا ہے لیکن اس سوال کو ابھارنے کی رتی برابر بھی کوشش نہیں کی جا رہی کہ یہ رفتار اتنی کیوں ہے؟ اس کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے اور کیا یہ واقعی اتنی ہی اٹل اور غیر متغیر ہے جتنا نیم الہامی نصابی کتب میں لکھا ہے؟ کیا ہمارا استاد اس مقدس سچائی سے واقف ہے کہ ہمارے قمقموں کو منور کرنے والی برقی رو کی پیمائشی اکائی دو ایسی تاروں کو تصور کرتی ہے جو لامتناہی طور پر پتلی اور لامتناہی طور پر لمبی ہیں، اور جنہیں ایک دوسرے سے ایک میٹر دور رکھا گیا؟ حرارت کیا ہے؟ حرکت کیا ہے؟ چمک کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ عدد کیا ہے؟ اگر ریاضی پر گرفت کے بغیر ان تمام تصورات کا خاطر خواہ علم ممکن نہیں تو پھر کیا ہم بطور اہلِ سائنس یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے سماج کی اکثریت نہ ہی جانتی ہے کہ یہ تصورات کیا ہیں اور نہ ہی جان سکتی ہے؟ کیا ا س کے یہ معنی نہیں کہ ان تصورات کی ریاضیاتی تعریفات کے بعداب ان کے ساتھ ایک تقدیس منسلک ہونا لازمی ہے، یعنی ایک ایسا مقدس تہہ خانہ جس کے دروازے پر پڑے قفل کی کنجی ریاضی ہے؟ لیکن پھر علمِ ریاضی کی حدود اور درجات کیا ہیں، اور کیا ایسا تو نہیں کہ اس مقدس تہہ خانے میں موجود متبرکات کو چھوتے ہی ہمیں کئی اور تہہ خانوں سے واسطہ پڑنے والا ہے؟ سائنسی تجربات، اصول و ضوابط، اٹل معلوم ہونے والے طریقہ ہائے کار کے پیچھے کیا مابعدالطبیعاتی مفروضے ہیں؟ طبیعات، کیمیا، حیاتیات اور اب معاشیات کی بنیادوں میں موجود ریاضیاتی سچائیاں کن فلسفیانہ روایتوں سے جنم لیتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہیں اور ان کی کیا افادی حیثیت ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں کے تدریسی رویے اس قسم کے بیسیوں سوالوں سے قطعاً لاتعلق ہیں۔
آج کی دنیا میں سائنس کی عملیت پسند جہت مرغوب ہونے کے باعث یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس قسم کے سوال سائنس نہیں بلکہ فلسفۂ سائنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ مفروضہ ایک ایسے سماج میں مثبت تخلیقی عمل کو ممکن نہیں بنا سکتا جس میں فلسفیانہ مزاج اور آزاد فکری رویے تقریباً مفقود ہوں اور اگر کسی حد تک ہوں بھی تو ان کے ذریعے تدریسی منظرنامے میں کچھ خاطر خواہ تبدیلی لانا ناممکن ہو۔ ہمارے ہاں ریاضیاتی فلسفہ، سائنس کی تاریخِ فکر و ارتقاء اور فلسفۂ سائنس سے جڑے مضامین پڑھانے کے لئے نہ تو اہلِ علم موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی مارکیٹ میں رسد و طلب کے قوانین اور وسائل تاحال ان کی اجازت دیتے ہیں۔
لیکن اس خلا کے ہونے کا سب سے زیادہ نقصان یہی ہے کہ تخلیقی امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنس سے جڑی تاریخِ فکر، تخیلاتی جہات اور تصوراتی پیچیدگیوں کو کم از کم اس سطح پر واضح کیا جائے کہ سائنس کے کسی بھی شعبے سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ و طلباء اور کسی حد تک عمومی دلچسپی رکھنے والے قارئین بھی اسافں دہ کر سکیں۔ ہماری رائے میں اس سوال کا جواب کہ ”سائنس کیا ہے؟ “ تجربہ گاہ سے قطعی لاتعلق رہ کر نہیں دیا جا سکتا۔
لہٰذا فلاسفہ ٔ سائنس کی من پسند تنقیدوں پر اندھا دھند اصرار کرتے وہ مذہبی مناظرین و متکلمین جو تنقید کی عملی جہت سے یکسر لاتعلق اور نابلد ہیں، یعنی سائنسی تناظر میں نظری اور تجرباتی بنیادوں استدلال قائم کرنے کے قابل نہیں صرف ایک ایسے کام میں وقت ضائع کر رہے ہیں جس سے ایک حد سے زیادہ نفسیاتی تسکین کا حصول بھی ممکن نہیں۔ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ ذرا قدرے مشکل کامیں ہاتھ ڈالیں اور بنیادی ریاضی اور سائنس کا کم از کم اتنا احاطہ کریں کہ اپنے بے جواز تعصبات کو باجواز تعصبات سے علیحدہ کر سکیں۔
بالکل اسی طرح وہ سائنسی مفکرین جن کے نزدیک الہامی عقائد محض کچھ کھوکھلے مفروضوں سے زیادہ نہیں فلسفیانہ نکتۂ نگا ہ سے سائنس کی تاریخِ فکر پر نظر ڈالیں تو انہیں باآسانی معلوم ہو جائے گا کہ ان کے زیادہ تر تعصبات بے جواز ہیں اور جس قسم کے اعتراضات وہ مذہبی عقائد پر اٹھاتے رہتے ہیں ذرا سی کوشش سے سائنسی اعتقادات کے بارے میں بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔
اس علمی سرگرمی سے براہِ راست مذہبی عقائد کو کوئی خطرہ نہیں لیکن چونکہ ابھی ہمارا سماج اس حد تک بالغ نظر نہیں ہوا کہ افراد کو نہ صرف متنوع مذہبی تصورات کے اظہارِ رائے کا حق دیا جائے بلکہ ان معاملات پر مثبت مکالمے کی روایت کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ نوبت تلخی اور فتوے تک نہ آئے، لہٰذا علمی و سماجی تناظر کی ان تمام تر پیچیدگیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس وقت ایک ایسی نئی روایت کی ضرورت ہے جو مذہب کے الہامی مفروضوں سے حتی الوسع لاتعلق رہتے ہوئے سائنس، فلسفہ اور تاریخِ فکر سے ایک مربوط استفادے کو ممکن بنائے۔
گمان ہے کہ اس روایت کو ”سائنس کی شعریات“ کہنا زیادہ درست ہو گا۔ کیا اس تناظر میں ایک ایسی ”ٹیکسٹ بک“ لکھنا ممکن ہے جو غیر استبدادی ہو، یعنی اس میں جواب سے زیادہ سوال اور طالبعلمانہ تشفی سے زیادہ محققانہ تجسس کو مدنظر رکھا گیا ہو؟