سائنس کی شعریات

پچھلے مضمون میں علم کی دوئی اور ایک مشترکہ منطق کی تلاش کے بارے میں اپنی رجائیت پسندی سے متعلق جو طالبعلمانہ دعوی قارئین کے ذوقِ تنقید کی نذر کیا تھا اس کی بنیادوں میں یہ احساس اور مشاہدہ کارفرما تھا کہ تعقلی اور نیم تعقلی رویوں کی دوئی جو زمانۂ قدیم ہی سے انسانی… آگے پڑھیے سائنس کی شعریات

تبدیلی کی حرکیات

فرض کیجیے آپ کے پاس دو ایک جیسے برتنوں میں مختلف درجۂ حرارت پر گرم کی گئی پانی کی ایک جتنی مقدار موجود ہے۔ پہلے برتن میں موجود پانی کا درجۂ حرارت نوے جب کہ دوسرے برتن میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ آپ دونوں برتنوں کو ایک ساتھ سرد خانے میں رکھ دیتے ہیں۔… آگے پڑھیے تبدیلی کی حرکیات

سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

سائنس اور جعلی سائنس کے درمیان فرق پر ڈاکٹر لبنیٰ مرزا کا چشم کشا مضمون نظر سے گزرا۔ میں سائنسی تحقیق کے تناظر میں مزاجاً محترمہ ڈاکٹر صاحبہ سے کُلی طور پر متفق ہوں، لہٰذا مجھےان کا مضمون مشاہداتی اور عملی اعتبارات سے بہت متوازن معلوم ہوا۔ لیکن اپنی عادت سے مجبور، ایک نظری تناظر… آگے پڑھیے سائنس، جعلی سائنس اور لاسائنس میں سرحدی تنازعات

مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

میں ایک بار پھر جمشید بھائی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون ’’جہانِ علم میں ارسطو کی منطق کی حیثیت‘‘ میں بحث کو مزید آگے بڑھایا۔ چونکہ میرے پچھلے مضمون میں پیش کی گئی گزارشات کچھ تنقیدی جہتوں کی جانب مبہم مگر دقیق اشاروں پر مشتمل تھیں جن کا کینوس جمشید بھائی کے… آگے پڑھیے مدرسی منطق پر مفید تنقیدی تناظر کے امکانات

ارسطو کے دفاع میں

یہ ابتدائی دو چار سطریں ویسے تو مضمون کے آخر میں درج کرنی چاہیے تھیں لیکن ذہنی خاکہ بنانے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات طویل ہو جائے گی لہٰذا انہیں پہلے ہی گوش گزار کر دینا مناسب ہے تاکہ ایک مجموعی تناظر قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اول تو یہ کہ برادرِ… آگے پڑھیے ارسطو کے دفاع میں

مارٹن ہایڈیگر اور ہینا اہرنٹ

بات چل رہی تھی وجود اور ہستی کے متعلق ہایڈیگر کے دقیق فلسفے اور اس کے فہم کے سہل طریقے ڈھونڈنے کی اور جا پہنچی ذاتیات تک۔ اورجب بات ہو ہایڈیگر کی ذاتیات کی تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے نازی نظریات اور سیاسی وابستگیوں کا ذکر نہ چھڑے۔ سیاسیات پھر کسی وقت… آگے پڑھیے مارٹن ہایڈیگر اور ہینا اہرنٹ

علم کی دوئی

ایک زمانہ ہوا ہمارے دوست وقار احمد ملک نے علم کی دوئی کے موضوع پر بحث چھیڑی تھی اور ہلکے پھلکے انداز میں تعلیم و تدریس سے جڑے سماجی مظاہر سے ایک تنقیدی ربط پیدا کر کے دکھایا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ انہوں نے اشارتاً غیر سنجیدہ عقلی رویوں اور سنسنی خیزی کی جانب… آگے پڑھیے علم کی دوئی

(انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو

برادرم ذیشان ہاشم کا اہم مضمون ’سب میرے ایک لیکچر کی مار ہے‘ نظر سے گزرا۔ سماج میں رد عمل کی نفسیات کے بارے میں ان کا تجزیہ نہایت متوازن معلوم ہوا۔ خاص طور پر ان کا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ یہ خود پسندی اور حتمی سچائی جاننے پر بے جا اصرار کا… آگے پڑھیے (انجینئر ) فرید اختر صاحب سے ایک گفتگو